ہندو نظریہ پاکستان کا مخالف ہے ہم اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں: مجید نظامی

25 جولائی 2009 (14:39)
لاہور (مانیٹرنگ نیوز) ایڈیٹر انچیف نوائے وقت مجید نظامی نے بنگلہ دیشی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو نظریہ پاکستان کا مخالف ہے\\\' ہم اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی اور پاکستانی بھائی بھائی ہیں\\\' کوئی مسلمان سیکولر نہیں ہوسکتا چاہے وہ کتنا ہی اپنے آپ کے بارے میں یہ کہتا رہے کہ وہ سیکولر ہے۔ مجید نظامی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی تجارت اور وفود کا تبادلہ ہونا چاہئے۔ بنگلہ دیشی وفد سے خطاب کرتے ہوئے مجید نظامی کا کہنا تھا کہ اب ایک کی بجائے دو پاکستان بن چکے ہیں۔ ایک کا نام پاکستان اور دوسرے کا بنگلہ دیش ہے۔ بھارت ہمارا دشمن ہے۔ ان کا کہنا تھا جو اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اور قرآن کو مانتا ہے وہ سیکولر نہیں ہوسکتا\\\' مسلمان کبھی بھی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاد نہ گناہ ہے اور نہ ہی فساد\\\' جہاد قرآن کا حکم ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ دشمن کیخلاف اپنے گھوڑے تیار رکھیں۔ مجھے بنگلہ دیش سے بھی یہی امید ہے کہ وہ دشمن کےخلاف اپنے گھوڑے تیار رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آمر پرویز مشرف کو کٹہرے میں لانے کا اب وقت ہوچکا ہے۔ درےں اثناءایوان کارکنان میں نظریاتی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے کہ حکومت ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 65 یا 70 سال کردے۔ اُن کا کہنا تھا اساتذہ نے ملک کی آئندہ نسل کو نظریہ پاکستان کے مقاصد سے روشناس کرانا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آزادی کے بغیر زندگی بے مقصد ہوتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ قائم ہوتا تو ہماری حالت زار ابتر ہوتی۔ چیف کوآرڈینیٹر نظریہ پاکستان ٹرسٹ عزیزالحق قریشی نے کہا کہ پاکستان قائم نہ ہوتا تو ہماری حالت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں جیسی ہوتی۔ جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر جاوید اقبال نے نظریاتی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کے دوران کہا کہ لوگوں میں شعور کی عدم بیداری کے لئے جاگیردار اور وڈیرے اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم نہیں ہونے دیتے۔