ان پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے!

25 اگست 2011
لندن ہنگامے ابھی سرد بھی نہ ہو پائے تھے کہ ان فسادات کی آگ بھڑکانے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے والے افراد کے گریبان قانون کے آہنی ہاتھ میں تھے اور وہ عدالت کے روبرو اپنی صفائی دے رہے تھے مگر الزامات ثابت ہو جانے پر وہ افراد اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے ’نفسیاتی اصلاح خانے‘ میں پہنچا دیئے گئے! کیونکہ وہاں ’جیل‘ کے لئے یہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں! ان فسادات کے دوران کسی کی جان لینے یا کسی کا گھر یا دکان پھونک دینے والے تمام افراد حوالات پہنچ گئے! ایسے تمام افراد جنہیں محض وہاں ’موجود ہونے‘ کی بنا پر پکڑ لیا گیا تھا، صفائی ملتے ہی اسی وقت رہا کر دیئے گئے 200 سے زائد افراد جنہیں کسی گھر یا دکان کو آگ لگاتے یا کسی پر تشدد کرتے پایا گیا ہے حوالات اور عدالتوں کے درمیان سفر کناں ہیں اور آہستہ آہستہ ’اصلاح‘ کے لئے روانہ کئے جا رہے ہیں!
کسی ملک میں کسی قانون کا موجود ہونا اتنا ضروری نہیں ہوتا جتنا اس قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے، ’لندن ہنگامے‘ بہت شدت کے ساتھ سامنے آئے مگر پولیس اور امدادی تنظیموں کی مثالی کارکردگی کے ساتھ ہی ان کا ذکر اذکار ختم ہوگیا!کیونکہ ’قانون پر عمل درآمد‘ ہوتے دیکھنا ہمارے بس کی بات ہی نہیں! ہر کسی کی آنکھوں کے سامنے اس کے اپنے ’کالے کرتوت‘ اور ان کا ممکنہ ’بھیانک انجام‘ ایک ساتھ دھمال‘ ڈالنے لگتے ہیں!
’کراچی ہنگامے‘ کیا شکل اختیار کرتے ہیں؟ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا؟ ابھی تو لوگ سحری کرکے ’روزے کی نیت‘ کر رہے تھے کہ جناب رحمان ملک ’کٹی پہاڑی‘ جا پہنچے تھے اور پورا میڈیا وہاں موجود تھا! ذرائع ابلاغ پر وہ علاقے جہاں آپریشن ہونا تھا، بار بار اجاگر کئے جا رہے تھے ’مشتری ہوشیار باش‘
پولیس اپنے حکام کی تابع ہوتی ہے اور حکام سیاست کاروں کے تابع ہوتے ہیں، سیاست کار اپنے مفادات کے تابع ہوتے ہیں اور وابستہ مفادات کا شکنجہ آدمی سے ہلنے جلنے کی سکت بھی چھین لیتا ہے!
بھاگ جاﺅ! جدھر سر سمائے نکل جاﺅ! یہی وارداتیں کسی اور جگہ کر لو! بس کچھ دن کے لئے کراچی چھوڑ دو! نکل جاﺅ! جدھر سینگ سمائیں نکل جاﺅ!
مجرموں اور قاتلوں کے لئے ایسی اور اتنی ہمدردانہ پیش کش کب کسی حکومت نے کی ہوگی! اگر یہی ’سرجیکل آپریشن‘ ہے تو نتیجہ صاف ظاہرہے!
یاران خوش خرام اپنے داﺅ پر بیٹھے ہیں اور یاران تیز گام اپنی پٹری بچھائے بیٹھے ہیں! کراچی کے غریب اور محنت کش لوگوں کو اسی تنخواہ پر کام کرنا ہے، کام کرو اور گولی کھاﺅ! نہ جانے لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور ان کی بن آئے، جن کی بن آئے تو پھر کسی سے بن آئے نہیں بنتا! چچا غالب کا یہی کہنا ہے!