انا ہزارے کی بھوک ہڑتال جاری‘ حکومت نے کرپشن کیخلاف بل کا نیا مسودہ بنا لیا

25 اگست 2011
نئی دہلی / ممبئی (مانیٹرنگ نیوز / نیوز ایجنسیاں) بھارت میں انسداد بدعنوانی مہم کے بانی سماجی رہنما انا ہزارے نے ملک میں کرپشن کیخلاف 9 ویں روز بھی دہلی کے رام لیلیٰ میدان میں بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہزارے نے کہا ہے کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ ہے نہ اسکی نیت صاف ہے جبکہ بھارتی حکومت نے انا ہزارے کے مطالبے پر مزید لچک دکھاتے ہوئے کرپشن کیخلاف بل کا نیا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ امکان ہے انا ہزارے کی ٹیم حکومت کے تیار کردہ لوک پال بل کے نئے مسودے پر راضی ہو جائیگی۔ قبل ازیں 74 سالہ انا ہزارے نے تشویشناک حالت کے باوجود ایک بار پھر طبی امداد لینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے دوبارہ انا ہزارے سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے جس پر سماجی رہنما نے حکومت سے تحریری یقین دہانی طلب کر لی ہے۔ دریں اثناءہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے انا ہزارے کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں تنظیم کے سربراہ بال ٹھاکرے کا خط پہنچایا جس میں انا ہزارے سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں انا ہزارے کی تحریک کی حمایت میں بالی وڈ کی شخصیات شاہد کپور‘ مہیش بھٹ‘ عمران خان و دیگر نے بھی آوازیں اٹھانا شروع کر دی ہیں جبکہ امیتابھ بچن نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک بدعنوانی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ دوسری طرف بھارتی ریاست گجرات میں انا ہزارے کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی ریلی نکالی‘ پولیس نے شرکاءپر زبردست لاٹھی چارج کیا جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر بھارت میں تعینات امریکی قونصل جنرل پیٹرہاس نے کہا ہے کہ انا ہزارے کی کرپشن کے خلاف بھوک ہڑتال بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور امریکہ بھارت میں مضبوط جمہوریت کا حامی ہے۔
انا ہزارے