کراچی میں فوج بلانے کی بجائے گورنر راج نافذ کیا جائے: ریٹائرڈ عسکری قیادت

25 اگست 2011
اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) ریٹائرڈ عسکری قیادت نے کراچی کے حالات کنٹرول کرنے کے لئے فوج بلانے کی بجائے گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل اور پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ اور سٹیل ملز کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ گڈ گورننس کے فقدان کا مسئلہ صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں ہے۔ کراچی کے حالات کنٹرول کرنے کے لئے فوج بلائی گئی تو پھر بلوچستان اور ملک کے باقی حصوں میں بھی بگڑے ہوئے حالات پر قابو پانے کے لئے فوج بلانا پڑے گی۔ نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے حمید گل نے کہا کہ کراچی کے حالات اس نہج تک پہنجانے کی ذمہ دار پاکستان پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں۔ صدر زرداری ملک کے صدر نہیں ایک پارٹی کے سربراہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کراچی میں فوج بلانے کی باتیں دراصل فوج کو پھنسانے کی سازش ہے۔ فوج کو وہاں نہیں جانا چاہئے۔ کراچی کے مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ چھ ماہ کے لئے صوبائی اسمبلی معطل کر کے وہاں گورنر راج نافذ کیا جائے ۔ قتل و غارت کرنے والوں کو پولیس اچھی طرح جانتی ہے‘ کارروائی صرف اس وجہ سے نہیں کر رہی کہ وہ ردعمل سے ڈرتی ہے۔ کراچی میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے‘ عوام حکمرانوں سے عاجز آ چکے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ حکمرانوں کی ناکامی کے بعد فوج ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ صرف کراچی میں فوج بلا کر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ فوج کو سیاسی قائدین کا تعاون حاصل نہ ہو اور اس کے پاس مکمل اختیارات نہ ہوں تو صرف سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کے گشت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ صرف کراچی نہیں پورے ملک کا نظام بگڑ چکا ہے۔ چیف ایگزیکٹو عملاً مفلوج ہیں ملک میں ون مین شو ہے‘ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے فوج کی نگرانی میں ریفرنڈم کرانے کے احکامات جاری کرے کہ عوام پارلیمانی نظام چاہتے ہیں یا صدارتی نظام۔ صدارتی نظام کے تحت صدر چند ٹیکنوکریٹس پر مبنی کابینہ سے حکومتی امور انجام دیں۔ اس سے وزرا کرپشن نہیں کر سکیں گے۔ تمام بحرانوں کی جڑ کرپشن اور اقرباپروری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کبھی ایک دوسرے کی خیرخواہ نہیں ہو سکتیں۔ ایم کیو ایم بار بار پیپلز پارٹی سے مل کر غلطی کر رہی ہے۔ آج ایم کیو ایم سندھ میں حکومت سے الگ ہو کر اپوزیشن میں بیٹھ جائے تو وہ اپنا کردار زیادہ خوش اسلوبی سے انجام دے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا اپنا گورنر ہو گا تو گورنر کی زیر نگرانی وزیر اعلیٰ بھی م¶ثر انداز میں امور حکومت انجام دے سکیں گے۔
عسکری ماہرین