مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کی دریافت پر پاکستان کی مکمل خاموشی!

25 اگست 2011
اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد کی اجتماعی قبروں کی دریافت کے عظیم انسانی المیہ پر پاکستان نے مکمل سکوت اختیار کر رکھا ہے۔ اس بارے میں استفسار پر دفتر خارجہ کے تمام متعلقہ افسران مہر بہ لب ہیں اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے دورہ چین و سعودی عرب سے واپسی کا انتطار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کے اس طرز عمل پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے تمام دھڑوں سمیت دیگر کشمیری قائدین بھی حیران اور پریشاں ہیں۔ دفتر خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق ماضی میں پاکستان ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر پرزور انداز میں اٹھاتا رہا ہے۔ اس بار دفتر خارجہ میں باور کیا جا رہا ہے کہ اجتماعی قبروں کا معاملہ اٹھا کر حال ہی میں اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات اور مزاکرات سے سرشار وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، دہلی سے شروع ہونے والی ”مفاہمت“ اور نیو یارک میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان مجوزہ ملاقات کے امکانات کو خراب نہیں کرنا چاہتیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت کے سرکاری انسانی حقوق کمشن نے مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں کئی روز پہلے اس بارے میں رپورٹوں کی اشاعت کے باوجود پاکستان کی طرف سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا اس کے برعکس بھارت میں اس رپورٹ نے ہلچل برپا کر دی ہے اور من موہن حکومت کو وضاحت کرنی مشکل ہو رہی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ان اجتماعی قبروں میں وہ ہزاروں لاپتہ کشمیری شہید دفن ہیں جنہیں گذشتہ متعدد برسوں کے دوران بھارتی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے غائب کیا۔
پاکستان / خاموش