گیس کے استعمال پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ‘ گھریلو بل 100 فیصد تک بڑھ جائے گا

25 اگست 2011
لاہور (معین اظہر سے) پاکستان‘ ایران اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان بھارت پائپ لائن کے لئے چاروں گیس کمپنیوں نے فنڈز کی دستیابی سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نے عوام کے گیس کے استعمال پر گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی منظوری آج وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی جائے گی۔ پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے لئے 108 ارب روپے جبکہ ترکمانستان گیس پائپ لائن کے لئے حکومت کو 654 ارب روپے چاہئے۔ وزارت پٹرولیم کی طرف سے گیس کمپنیوں کو فنڈز دینے کے لئے کہا گیا تھا جس پر انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ان کے پاس فنڈز نہیں جس پر وفاقی حکومت نے عوام پر گیس کے استعمال کا ٹیکس عائد کر کے یہ رقم پوری کرنے کا فیصلہ کیا‘ وزارت پٹرولیم کی سمری کی وزیراعظم نے منظوری دے دی ہے اور حتمی فیصلہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ یہ سیس کتنے عرصہ کے لئے لگایا جائے گا اور کتنا ہو گا اس بارے میں وزیراعظم کی زیر صدار ت اجلاس میں طے کیا جائے گا تاہم گھریلو اور صنعتی صارفین دونوں سے علیحدہ علیحدہ ریٹ پر لئے جانے کی تجویر ہے۔ وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے مطابق یہ سیس عائد ہونے سے گھریلو گیس کے بلوں میں 75 سے 100 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ وزارت پٹرولیم کے ذرائع نے بتایا کہ اس وقت پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ آخری مراحل میں ہے‘ اس کے لئے جو سیس عائد کیا جائے گا‘ وہ اس سال نومبر سے عائد ہو جائے گا۔ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر امکان ہے کہ سیس اگلے سال سے عائد کیا جائے گا۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق ان دونوں پراجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو 2075 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملے گی جس کی وجہ سے ڈیمانڈ اور سپلائی کے گیپ میں بہتری پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت پاکستان میں گیس کی ڈیمانڈ 1605 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق ہے‘ اگلے دس سال میں اگر یہ منصوبے مکمل نہ ہوئے تو یہ فرق 2021-22ءمیں 5247 ہو جائے گا۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق ان پراجیکٹ پر تمام گیس کمپنیوں جن میں ایس ایس جی پی ایل، ایس این جی پی ایل، پی پی ایل اور ایم جی جی ایل سے کہا گیا تھا کہ وہ ان منصوبوں کے لئے فنڈز دیں جس پر ان گیس کمپنیوں نے کہا کہ ان کے پاس رقم نہیں۔ وزارت پٹرولیم کے ذرائع نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کو ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے کو روکنے کے لئے دبا¶ میں لانے کی کوششیں کی تھیں‘ بعض بین الاقوامی اداروں کو اس کے لئے فنڈز فراہم کرنے سے امریکہ کے دباو¿ کی وجہ سے انکار کر دیا ہے۔
گیس ٹیکس