طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج جاری، پشاور میں مظاہرین پر لاٹھی چارج، متعدد زخمی

25 اگست 2011
لاہور+ پشاور (نیوز رپورٹر) موسم بہتر ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے سحری و افطاری کے اوقات میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس پر کئی مقامات پر واپڈا کیخلاف مظاہرے کئے گئے اور شہریوں نے حکمرانوں کو بددعائیں دیتے ہوئے نعرے بازی بھی کی۔ بجلی کے نظام میں خسارہ 4059 میگاواٹ رہا جس پر شہروں اور دیہات میں 14سے 16گھنٹے تک بجلی بند کی گئی۔ جلالپور بھٹیاں سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سحری، افطاری اور نماز تراویح کے اوقات کے علاوہ بھی دس، دس گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ سے عوام سراپا احتجاج بن گئے جبکہ عید کی آمد پر کاروباری مارکیٹیں سلائی کڑھائی کی دکانوں پر گاہکوں کی دکانداروں سے لڑائی جاری ہے۔ عوام نے واپڈا اور حکومت کیخلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ پشاور سے مانیٹرنگ نیوز اور ثناءنیوز کے مطابق سحری اور افطاری کے اوقات میں بھی بجلی بندش کے خلاف شہری مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ باڑہ گیٹ، پشتہ خرہ، سواتی پھاٹک اور گڑھی قمر دین میں روڈ ہر قسم کی ٹریفک کےلئے بند کر دیئے گئے اور لوگوں نے ٹائر جلا کر حکومت اور واپڈا کےخلاف شدید نعرہ بازی کی ۔اس دوران شدید ٹریفک جام رہی اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے آس پاس کی دکانیں بھی بند کروا دیں اور تاجر برادری بھی احتجاج میں شریک ہوگئی جس کے بعد مظاہرے شدت اختیار کرگئے ۔پولیس اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم بعد ازاں بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔ گومل سے نامہ نگار کے مطابق سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے دفاتر میں توڑپھوڑ کی۔ پولیس نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 30 مشتعل مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔
لوڈشیڈنگ

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...