A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

”متنازعہ“ آڈیٹر جنرل کا تقرر : چودھری نثار نے پی اے سی کی ذیلی کمیٹیاں توڑ دیں‘ کراچی میں ہر شرپسند گروپ کے پیچھے حکومتی جماعتوں کا ہاتھ ہے : اپوزیشن لیڈر

25 اگست 2011
اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز/ وقت نیوز+ ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین چودھری نثار علی خان نے حکومت کی جانب سے اختر بلند رانا کی آڈیٹر جنرل تقرری کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے شدید اعتراض کیا ہے اور پی اے سی کی تمام خصوصی اور ذیلی کمیٹیاں تحلیل کر دی ہیں۔ چودھری نثار نے واضح کیا ہے کہ کراچی کے حالات پر حکومتی جماعتیں ڈرامے بازی کر رہی ہیں، کراچی میں ہر شرپسند گروپ کے پیچھے حکومتی جماعتوں کا ہاتھ ہے، شہر کو فوج کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے والے فوج کے خیرخواہ نہیں، فوج ایک بار کراچی کی تنگ و تاریک گلیوں میں گھس گئی تو وہاں پر نہ ٹھہر سکے گی نہ نکل سکے گی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد سے جاری بیان میں چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ایک پارلیمانی ادارہ جس نے اپنی کارکردگی سے پچھلے 3 سالوں میں 115 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے اور بڑی محنت اور دلجمعی سے کام کیا اس کو اب حکومتی ضروریات اور ایجنڈے کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ایک خالصتاً آئینی پوسٹ کو اپنے پسندیدہ ، چہیتے اور انتہائی متنازعہ شخصیت سے پر کرنے کا اصل مقصد حکومت کے اکاﺅنٹس جو پہلی دفعہ پی اے سی کے سامنے آ رہے ہیں پر ایک شفاف تجزیے کو غیر موثر کرنے کی ایک واضح کوشش ہے ۔ ایک ایسے آڈیٹر جنرل جن کے بارے میں خود موجودہ حکومت کے اداروں اور وزارتوں نے سنگین قسم کے معاملات کی نشاندہی کی۔ ا س کو ایک ایسے اہم اور آئینی پوزیشن پر مقرر کر دینے سے وزیر اعظم کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔ متنازعہ شخص کو آئینی عہدے پر تعینات کرنے سے پی اے سی کو کام سے روکنے کے حوالے سے حکومتی عزائم واضح ہو گئے ہیں۔ دریں اثناءایک بیان میں چودھری نثار نے کہاکہ کراچی کے حالات درست کرنے کی آڑ میں حکومتی جماعتیں ایک سنگین ڈرامے بازی کررہی ہیں۔آل پارٹیز پارلیمانی کمیٹی بنا کر کارروائی کی مانیٹرنگ کی جاسکتی ہے۔ کراچی پاک فوج کیلئے ایک ایسا چنگل ثابت ہوسکتا ہے جس کی سیاسی دلدل میں پھنس کر فوج نہ آگے کی رہے گی نہ پیچھے کی ، فوج کے کراچی میں داخل ہونے سے وقتی طور پر شاید عسکریت پسندی تھم جائے مگر اس کے بعد جو فوج اور پاکستان کے ساتھ ہوسکتا ہے اس کے خدوخال تباہ کن اور خطرناک ہیں ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ اگر آئین کے مطابق فوج کو کراچی کے اندر کسی قسم کا رول دینا مقصود ہو تو اس پر پہلے پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رینجرز ناکام نہیں ہوئے اصل میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت میں شامل جماعتوں کے دوہرے معیار نے حکمرانی کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ حکومتی ناعاقبت اندیسی اور نااہلی اور غیر سنجیدگی پر صرف ماتم کرسکتے ہیں جو حکمران ایوان صدر اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے ابتر صورتحال کا حل تلاش کررہے ہیں ان کی عقل اور سنجیدگی پر رونا آتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ آصف علی زرداری جسی کسی سیاسی مشکل میں پھنستے ہیں تو سندھی ٹوپی اور اجرک اوڑھ کر سندھ کے عوام کی ہمدردیاں لینے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب سندھ سیلاب میں ڈوبا ہوا یا کراچی جل رہا ہو تو زرداری صاحب نیرو کی طرح یا تو فرانس میں ہوتے ہیں یا اسلام آباد میں۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) آئندہ چند دنوں میں کراچی کی صورتحال پر اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دینے پر غور کر رہی ہے۔ چودھری نثار نے مزید کہا کہ صدر زرداری سیاسی مشکل میں پھنستے ہیں تو سندھی ٹوپی اور اجرک اوڑھ کر ہمدردیاں لینے کی کوشش کرتے ہیں‘ کراچی کے جلنے پر وہ فرانس میں ہوتے ہیں یا اسلام آباد میں‘ کراچی کی مشکلات کا واحد حل یہ ہے کہ پولیس اور رینجرز کو رحمن ملک کے سائے اور اثر سے نجات دلا کر مکمل اور کلی اختیارات دئیے جائیں۔
چودھری نثار