A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

لیبیا....مخالفین پر سکڈ میزائل حملے‘ نیٹو کی بمباری جھڑپیں جاری‘ بیسیوں ہلاک

25 اگست 2011
طرابلس (نیوز ایجنسیاں + مانیٹرنگ نیوز + رائٹرز) لیبیا میں معمر قذافی کی حامی فوج نے مخالفین پر سکڈ میزائلوں سے حملے شروع کر دیئے ہیں جبکہ نیٹو کی جانب سے بھی طرابلس پر دو فضائی حملے کئے گئے ہیں اور شہر میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے جس میں مزید بیسیوں افراد ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم ریڈیو انٹرویو میں معمر قذافی کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوجی حکمت عملی کے تحت العزیزیہ کو خالی کیا ہے۔ فتح یا موت تک جنگ جاری رہے گی۔ طرابلس کا بھیس بدل کر دورہ کیا‘ قذافی کی بیٹی نے اپنے پیغام میں کہا قوم نیٹو کے خلاف متحد ہو کر قذافی کا ساتھ دے۔ قذافی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے کہا ہے کہ حملہ آور یہ مت بھولیں کہ قذافی کے حامی مہینوں یا برسوں مزاحمت کر سکتے ہیں۔ دریں اثناءمخالفین کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل اور عہدےدار عبداللہ نے دعویٰ کیا طرابلس سمیت لیبیا کے 95 فیصد علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ 2.5 ارب ڈالر امداد کی بھی اپیل کی اور کہا قذافی کی گرفتاری تک جنگ ختم نہیں ہو گی۔ سرت کی جانب پیشقدمی کر رہے ہیں‘ انتقال اقتدار کا مرحلہ شروع ہو گیا‘ قذافی پر لیبیا میں مقدمہ چلے گا۔ آئندہ 8 ماہ میں صدارتی اور پارلیمانی الیکشن کرائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق کرنل قذافی کے کمپاﺅنڈ میں زیر زمین سرنگیں موجود ہیں جن کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں تک رسائی ممکن ہے۔ وینزویلا کے صدر ہوگوشاویز نے کہا ہے کہ مخالفین کو تسلیم نہیں کرتے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ امریکہ چند روز میں لیبیا کے منجمد اثاثوں میں سے ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر ریلیز کر دے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوسان ری رائس نے کہا ہے کہ لیبیا پر عائد سفارتی اور قانونی پابندیاں بھی ہٹانے کیلئے کوشاں ہیں۔ نکارا گوا کے صدر اورٹیکا کے مشیر کا کہنا ہے کہ قذافی چاہیں تو وہ ان کے ملک میں پناہ لے سکتے ہیں۔ دریں اثناءامریکی سنیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو لیبیا کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ لیبیا کے عوام کل کے سامراجیوں اور آج کے جمہوریت کے دعویداروں کو مداخلت کا موقع نہ دیں۔ دریں اثناءچین کے وزیر خارجہ نے مخالفین پر زور دیا ہے کہ وہ تیل کی ملکی صنعت میں چین کی بھاری سرمایہ کاری کے باہمی فوائد کو پیش نظر رکھیں۔ اقوام متحدہ لیبیا کی تعمیرنو میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ مخالفین کی عبوری کونسل نے ہیڈکوارٹر بن غازی سے طرابلس منتقل کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 1700، زخمیوں کی 2500 ہو گئی۔ ادھر امریکہ‘ فرانس اور برطانیہ نے 4ممالک کو لکھے خط میں کہا ہے لیبیا میں موجود کیمیائی ہتھیار القاعدہ کے ہاتھ لگ سکتے ہیں‘ سکیورٹی بڑھائی جائے۔ روسی صدر نے زور دیا قذافی اور مخالفین مذاکرات کریں۔ مخالفین کے ترجمان نے تصدیق کی طرابلس پر کامیاب حملے کی منصوبہ بندی نیٹو افواج کے ساتھ مل کر کی گئی اور آپریشن کو ”مرمیڈ ڈان“ کا نام دیا گیا تھا۔ لیبیائی تاجر نے قذافی کو مردہ یا زندہ گرفتار کرنے پر 17 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔4 اطالوی صحافی اغوا ہو گئے
لےبےا