کراچی : سرچ آپریشن جاری‘ 14 ٹارگٹ کلرز سمیت 83 گرفتار‘ ملزموں سے کیمیکل ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا : رینجرز

25 اگست 2011
کراچی (ایجنسیاں + ریڈیو مانیٹرنگ) رینجرز اور پولیس نے کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ سرچ آپریشن جاری رکھا اور 14 ٹارگٹ کلرز سمیت 83 افراد گرفتار کئے ہیں۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق 14 افراد کے قبضے سے کیمیکل ہتیھار اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ نیو کراچی خمیسو گوٹھ، کورنگی، عیسیٰ نگری میکاسا اپارٹمنٹ، بلوچ پاڑہ، پی آئی بی کالونی سمےت شہر کے مختلف علاقوں مےں رینجرز نے کارروائی کر کے 14 ملزموں کو گرفتار کےا۔ جن کے قبضے سے منشےات، بھتے کی پرچیاں، کےمیکل ہتھےار اور دھماکہ خےز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ ترجمان نے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان سے 79 اقسام کے ہتھےار اور گولےاں برآمد ہوئی ہےں۔ بریگیڈیئر وسیم ایوب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 20 مقامات پر آپریشن کیا گیا جس کے دوران 14 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ملزموں سے 79 ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں اور بھاری مقدار میں منشیا ت قبضے میں لی گئیں جس میں 50 کلو چرس‘ 20 کلو ہیروئن اور شراب کی ہزار بوتلیں شامل ہیں‘ ملزموں کے قبضے سے بغیر رجسٹریشن 3 گاڑیاں قبضے میں لی گئی ہیں‘ اس کے علاوہ ملزموں سے دھماکہ خیز مواد اور کیمیکل برآمد کئے گئے ہیں۔ ملزمان سے بھتہ خوری سے متعلق معلومات ملی ہیں‘ کراچی میں سنیپ جیکنگ کا سلسلہ جاری ہے‘ رینجرر پر کسی قسم کا دبا¶ نہیں‘ اپنی مرضی کے مطابق آپریشن کریں گے‘ کسی شہری کو ٹارگٹ کر کے گولی نہیں ماری گئی۔ رینجرز اپنی کارروائی کی میڈیا کو بریفنگ دے گی۔ معلومات ملنے پر کسی بھی جگہ آپریشن کریں گے‘ ٹارگٹ کلرز کو کیسے پکڑنا ہے اس کی حکمت عملی بھی ہمارے پاس ہے‘ کراچی کے مختلف علاقوں میں کل سے آپریشن شروع کئے ہیں۔ انٹیلی جنس کی بہتری اور معلومات پر آپریشن کئے جائںی گے‘ آپریشن کے نتائج جلد سامنے آئیں گے‘ رینجرز کبھی عوام کو نشانہ نہیں بناتی‘ ہم اپنی حکمت عملی کے تحت کام کریں گے جہاں جہاں ضروری ہو گا وہاں وہاں آپریشن کیا جائے گا۔ ابھی ملزموں سے پوچھ گچھ جاری ہے‘ گذشتہ رات کارروائی صرف رینجرز نے کی پولیس نہیں کی‘ ملزموں سے ملنے والی معلومات ابھی نہیں بتا سکتے‘ ہم صرف رینجرز کی کارکردگی سے میڈیا کو آگاہ کرنا چاہتے تھے‘ حالات کی خرابی میں تیسری قوت کے ملوث ہونے پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پولیس سے رینجرز کے اچھے روابط ہیں‘ ہم کسی کے احکامات کا انتظار نہیں کر رہے۔ دوسری جانب سندھ پولیس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سنگین جرائم میں ملوث 58 ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و منشیات برآمد کر لیں۔ سندھ پولیس کے اعلامیہ کے مطابق سندھ بھر سے سنگین جرائم میں ملوث 23 ملزموں ، مختلف وارداتوں کے دوران رنگے ہاتھوں 5 ملزمان جبکہ دیگر کارروائیوں میں 30 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 15 پستول، ایک ریوالور، ایک ایس ایم جی، 26 گولیاں، 80 گرام چرس اور 43 گرام ہیروئن برآمد کر لی۔ علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ تھانہ ڈھرکی کی حدود میں ایک پولیس مقابلے کے دوران پولیس نے مسلح ملزم اختر حسین کو ریلوے اسٹیشن پر گرفتار کر کے ملزم کے قبضے سے ایک ٹی ٹی پستول، 2 کلو دھماکہ خیز مواد اور بم برآمد کر لئے۔ امن و امان کی صورتحال پر وزیر اعلیٰ ہا¶س میں اجلاس ہوا جس میں کراچی میں امن و امان کے لئے پولیس کارروائی پر آئی جی نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اور رینجرز مل کر دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھیں گے۔ شرپسندوں‘ بھتہ خوروں کی معلومات دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی‘ کسی قسم کا دبا¶ قبول نہیں کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے شرپسندوں کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے۔ کراچی کے لوگوں میں بھائی چارہ پایا جاتا ہے۔ شہر کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم صورتحال کے حوالے سے رابطے میں ہیں کچھ روز میں کچرا گوٹھ کا بھی دورہ کرونگا۔ رحمن ملک نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب پولیس اور رینجرز سے اظہار یکجہتی کے لئے کٹی پہاڑی، اورنگی ٹاﺅن اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر لوگوں نے وزیر داخلہ کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ نے بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے پر ڈی ایس پی رستم کو قائداعظم میڈل دینے اور پولیس کے دیگر افسروں کی جانب سے اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر انہیں نقد انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز اور پولیس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہر جگہ کارروائی کرے گی۔ ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خوروں اور شرپسند عناصر کے خلاف جہاں بھی ضرورت پڑے گی، وہاں بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ میں یہاں کٹی پہاڑی پر آپریشن کی نگرانی کرنے نہیں بلکہ پولیس اور رینجرز کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے آیا ہوں۔ وزیر داخلہ سندھ منظور وسان نے کہا ہے کہ کراچی میں آپریشن کیلئے ابتدائی طور پر 9 جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آپریشن سے متعلق پہلے سے نہیں بتایا جا سکتا۔ آپریشن کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو پکڑیں۔ دو دن میں 11 ٹارگٹ کلرز پکڑے ہیں۔ گرفتار کئے گئے ٹارگٹ کلرز سے تفتیش جاری ہے۔ شہر میں بلا تفریق کارروائی ہو گی۔ منظور وسان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کیلئے اتحادی پارٹیوں سے بالاتر ہو کر آپریشن کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میںرینجرز کے اختیارات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ منظور وسان نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن سے دہشت گردی کے واقعات رک جائیںگے۔ پولیس اور رینجرز کا کام مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق منظور وسان نے کہا کہ انشاءاللہ اب کراچی میں ٹارگٹ کلنگ نہیں ہو گی۔ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے شہر میں امن قائم کیا جائے گا۔ کراچی میں بھتے کی پرچیاں ملنے پر آرام باغ کی میڈلین مارکیٹیں بند ہو گئیں‘ دکانداروں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں تاہم گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4 بوری بند نعشیں ملیں اور فائرنگ کے واقعات میں 8 جاںبحق ہوئے۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے سرجیکل آپریشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور رینجرز حالات پر قابو پا لیں تو فوج بلانے کی ضرورت نہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور رحمن ملک کی زیر صدارت اجلاس میں بلاامتیاز کارروائی کے فیلصے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ کراچی کی عدالتوں نے 4 ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ رحمن ملک نے کہا کہ کراچی میں کوئی نو گو ایریا نہیں رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے رینجرز اور پولیس کی کارکرگی کو سراہا۔ منظور وسان نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور صدر کو کراچی کی صورتحال اور آپریشن سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کراچی آپریشن