فوج بلا کر کراچی کو نیا زخم نہیں دینا چاہتے‘ بلاتفریق آپریشن ہو گا‘ وفاقی کابینہ

25 اگست 2011
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وفاقی کابینہ نے کراچی کے 9 حساس علاقوں میں بلاتفریق آپریشن کی منظوری د یتے ہوئے شہر کو فوج کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے سندھ حکومت کے اقدامات کی توثیق کی ہے۔ فوج بلانے کے مطالبات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا‘ آپریشن رینجرز اور پولیس مل کر کریں گی‘ گرفتار قاتلوں اور شرپسندوں کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا‘ وفاق صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کرے گا‘ زرعی پیداوار پر انکم ٹیکس واپس لے لیا گیا ہے ‘ کھاد کی قلت پر قابو پانے کے لئے مزید 2 لاکھ ٹن کھاد درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ نندی پور اور چیچوکی ملیاں پاور پراجیکٹ بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘ علمائے کرام اور عوام سے جمعة الوداع کو یوم دعا کے طور پر منانے کی اپیل کی گئی ہے‘ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ فوج بلا کر کراچی کو کوئی نیا زخم نہیں دینا چاہتے ‘ فوجی آپریشن عارضی حل ہے‘ الطاف حسین نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا‘ وزیراعظم نے کابینہ کو کراچی کی صورتحال بارے آگاہ کیا اور قیام امن کے لئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ کراچی میں متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بارے میں بھی وزیراعظم نے کابینہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ کراچی کا مسئلہ نیا نہیں پرانا ہے یہ مختلف دہائیوں سے چلا آ رہا ہے اور جس کی وجہ سے وہاں اسلحہ کے انبار لگ چکے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند اورملک دشمن عناصر کراچی کو تباہ کرکے پاکستان کو غیرمستحکم کابینہ نے سندھ حکومت کے تمام فیصلوں کی توثیق کی۔ کراچی میں فوج طلب کرنے کی باتوں پر کابینہ نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ رینجرز فوج کا ہی ذیلی ادارہ ہے۔ فوج بلانے کی باتیں غیردانشمندانہ ہیں۔ پوری کابینہ کا م¶قف تھاکہ ہمیں ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی کراچی کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے ہوں گے اور منفی بیانات سے گریز کرنا ہو گا۔ کراچی کے مذکورہ 9 علاقوں کی آبادی 35 سے 40 لاکھ ہے جہاں مٹھی بھرشرپسند ہیں‘ آپریشن بلاامتیاز ہو گا اور گرفتار مجرموں کو میڈیا کے سامنے لائیں گے۔ کسی اثرورسوخ کو تسلیم نہیں کیاجائے گا شرپسندوں کا تعلق جس پارٹی سے ہو گا گرفتار کیا جائے گا۔ کراچی آپریشن کے لئے وفاق صوبے کی مکمل معاونت کرے گا۔ میڈیا پر حقائق لائے جائیں گے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ احساس ذمہ داری کامظاہرہ کریں اور کراچی کے کینسر کا علاج کرنے کے لئے حکومتی کوششوں کا ہاتھ بٹائیں۔ میڈیا کو سنسنی نہیں پھیلانا چاہئے۔ کابینہ نے کھاد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کھاد کی قلت نہیں ہونے دی جائے گی۔ کابینہ نے توانائی کے بحران کا جائزہ لیا اور نندی پور منصوبے کی منظوری دی۔ اگلے سال تک مزید ایک ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں آ جائے گی۔ کابینہ نے علماءسے اپیل کی کہ وہ جمعة الوداع کو کراچی میں امن کے لئے خصوصی دعائیں کریں۔ وزیراطلاعات نے بتایاکہ کابینہ نے 425میگاواٹ کے نندی پورپاورپراجیکٹ اور525میگاواٹ کے چیچوکی ملیاں پاورپراجیکٹ پرکام تیزکرنے کی ہدایت کی کابینہ کوبتایاگیاہے کہ خریف فصل کے لئے مزید دو لاکھ ٹن کھاد درآمد کی جائیگی ،ڈیڑھ لاکھ ٹن کھاد پہلے ہی منگوالی گئی ہے ۔کھاد پر پانچ ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے ۔ کابینہ نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی کہ وہ حج عمرہ آپریشن کومنظم بنانے کے بل کے مسودے پرنظرثانی کریں ۔ کابینہ نے 16اگست کوای سی سی اجلاس کے فیصلوں کی بھی توثیق کی اوراوگراکے معاملے پرتین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی۔پٹرولیم ،خزانہ اورصنعت کے وزیراس کمیٹی کے ممبرہوں گے۔ ایف بی آرنے زرعی پیداواری اشیاءکوانکم ٹیکس کومستثنیٰ کرنے کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں فوج بلانے کااستحقاق براہ راست صوبائی حکومت کے پاس ہے وفاقی کے دائرہ کارمیں یہ بات نہیں آتی۔ کراچی میں جب بھی فوج گئی پارلیمنٹ نے بھیجوائی اوراس کے منفی اثرات سامنے آئے۔ فوج مسئلے کاعارضی حل ہے مستقل حل صرف سیاسی ہے ۔ہم وقتی بلے بلے واہ واہ نہیں چاہتے ۔ایم کیوایم سے مشاورتی عمل جاری ہے ہمارے دروازے کھلے ہیں الطاف حسین نے وزیراعظم کے استعفے کابراہ راست کوئی مطالبہ نہیں کیاان کے بیان کوتوڑمروڑکرپیش کیاگیا۔انہوںنے کہا کراچی کے جن 9 علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں ہیں۔ آپریشن بلاتفریق ہو گا۔ شرپسند اور قاتل کسی پارٹی کاہوقاتل ہے اورکوئی پارٹی گندے انڈے قبول نہیں کرتی۔ بعض صحافی بلاوجہ فوج کوبلاتے جارہے ہیں ۔معلوم نہیں ان کا کیا ایجنڈا ہے، سوات‘ مالاکنڈ میں ہماری دعوت پر ہی فوج آئی تھی۔
اسلام آباد (وقت نیوز + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے وفاقی کابینہ کو کراچی کی صورتحال اورشہرقائد کے اپنے حالیہ دورہ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے اور اعتماد میں لیتے ہوئے کہاہے کہ کراچی کامسئلہ امن وامان سے زیادہ سیاسی بن چکا ہے، بعض عناصرآئندہ سال مارچ میں سینٹ کا الیکشن رکوانے کےلئے حالات مزید خراب کررہے ہیں مگر انہیں مایوسی ہوگی،سندھ حکومت کو واضح ہدایات دے آیا ہوں امیدہے کہ حالات جلد بہتر ہوجائیں گے۔ ذرائع کے مطابق بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراءنے کراچی کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کےلئے بعض تجاویز پیش کیں۔ ایک وزیر نے کہا کہ 1993-94میں وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے پورے عزم کے ساتھ کام کیا اور پولیس کو مکمل اختیارات دئیے جس کے نتیجے میں کراچی میں امن مکمل بحال ہو گیا تھا اب بھی اگر پولیس کو فری ہینڈ دیا جائے اورکسی طرف سے کوئی مداخلت نہ ہو تو امن بحال ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، سینٹ کے الیکشن وقت پرہوں گے کراچی میں امن بھی بحال ہوگا‘ انہوں نے وفاقی کابینہ کوسندھ کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی بدامنی پورے ملک کی صورتحال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کراچی کو کسی صورت بھی نظر انداز نہیںکیاجاسکتا۔ قیام امن کیلئے تمام فریقین کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں۔ اے این پی ہماری اتحادی ہے۔ شاہی سید سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی۔ کراچی میں بحالی امن کیلئے سندھ حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ صورتحال زیادہ خراب ہونے پر خود کراچی گیا۔ ملاقاتوں پر کچھ تحفظات سامنے آئے۔ سندھ کابینہ سے بھی بہتری کے اقدامات پر بات کی۔ تاجروں نے ملاقات نہ کرنے پر شکوہ کیا۔ میڈیا نے بہت زیادہ سنسنی پھیلائی۔ آرمی چیف کو بھی صورتحال اور اقدامات پر بریفنگ دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں فوج کو بلائیں ہم کیسے فوج کو بلا سکتے ہیں یہ صوبائی معاملہ ہے۔ ایم کیو ایم سے اختلافات کی بات درست نہیں۔ گورنر سندھ اجلاس میں میرے ساتھ بیٹھے تھے۔ کابینہ کے اجلاس میں فوجی آپریشن کے بارے میں وزیراعظم نے تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو فاﺅنڈیشن کا مقصد جمہوری اقدار کے مطابق اداروں کو سہولتیں پہنچانا اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اس ادارے کے ذریعے ہم لوگوں کو معاشرتی انصاف تک رسائی کیلئے تمام ضروری وسائل فراہم کرسکتے ہیں تاکہ انسانی ترقی میں مدد مل سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بے نظیر بھٹو فاﺅنڈیشن کے اراکین اور گورنر خیبر پختونخواہ بیرسٹر مسعود کوثر سے وزیراعظم ہاﺅس میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں ترجمان ایوان صدر فرحت اللہ بابر، سید خورشید شاہ اور ڈاکٹر سید کمال بھی موجود تھے وفد کے ارکان نے کہا کہ حکومت نے فاٹا میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کا نفاذ کرکے وہاں کے عوام کو ان کا حق نمائندگی دیدیا ہے اور ایف بی آر کے قانون میں ترامیم بھی خوش آئند اقدام ہے اس ایکٹ کے نفاذ سے تمام سیاسی جماعتیں فاٹا میں اپنا اپنا سیاسی کردار ادا کرسکیں گی۔وزیراعظم گیلانی نے کراچی کو ملکی حالات کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں امن کی خاطر تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلا جائے گا‘ فریقین کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اے این پی اہم اتحادی ہے اور شاہی سید سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم گیلانی سے رکن قومی اسمبلی راحیلہ بلوچ اور سینیٹر عباس خان آفریدی نے الگ الگ ملاقات کی۔ راحیلہ بلوچ نے وزیراعظم کو اپنے حلقہ میں مختلف ترقیاتی سکیموں کے متعلق آگاہ کیا۔
گیلانی

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...