کپتان کی ایک اور نامکمل اننگ

25 اگست 2011
رﺅف طاہر
حکومت ہٹاﺅ‘ ملک بچاﺅ ”تحریک کے تحت پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے کپتان کے صرف 2 دھرنے ہوئے۔ تیسرا (اور چوتھا) دھرنا منسوخ کر دیا گیا۔ پروگرام کے مطابق ےہ دھرنے پورے رمضان میں ہر ہفتے افطار سے سحر تک دیئے جانے تھے۔ کپتان نے جس جوش و خروش سے اس پروگرام کا اعلان کیا تھا، اس سے تو لگتا تھا کہ ماہ مبارک میں ان کی یہ سعی وکاوش ”حکومت ہٹاﺅ مہم کا فیصلہ کن مرحلہ ہو گی اور قوم یہ عید دہری خوشیوں کے ساتھ منائے گی۔ تحریک انصاف کی وضاحت سے یوں لگتا ہے کہ دھرنا دینے والوں میں سے بعض عمرہ پر چلے گئے، جو باقی بچے، انہیں اعتکاف بیٹھنا تھا چنانچہ کپتان کو ےہ اننگ ادھوری چھوڑنی پڑی۔ سینٹیر پرویز رشید کو ایسا موقع خدا دے چنانچہ انہوں نے گذشتہ نامکمل یاناکام اننگز کی بھی یاد دہانی کرا دی۔ پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا (جس کے بعد ان حملوں کی تعداد اور بڑھ گئی تھی) پھر نیٹو سپلائی روکنے کےلئے کراچی میں دھرنا‘ ےہ سپلائی اب بھی جاری ہے لیکن اس روز غلطی ےہ ہوئی کہ دھرنا جس پُل پر دیا گیا‘ وہاں سے ےہ سپلائی گزرتی ہی نہیں۔ کچھ ٹائمنگ بھی غلط ہو گئی کہ دھرنا شام کے وقت تھا جبکہ ہفتے کے روز نیٹو کے ٹرک صبح کے وقت روانہ ہوتے ہیں اور باقی ڈیڑھ دن ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔ یہی چُوک رمضان المبارک میں ہفتہ وار دھرنوں کے پروگرام میں ہو گئی۔ تب ےہ خیال ہی نہ آیا کہ ماہ مبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بھی آتا ہے اور لوگ اس مہینے کی برکتیں سمیٹنے حرمین کا رخ بھی کر تے ہیں۔ ویسے ہمارے لئے ےہ بات خوشگوار حیرت کا باعث ہے کہ تحریک انصاف اتنی مذہبی ہو گئی ہے کہ اسکے عہدیداران‘ ارکان اور کارکنان کی اتنی بھاری اکثریت نے حکومت ہٹاﺅ‘ ملک بچاﺅ مہم کے فیصلہ کن مرحلے میںعمرے اور اعتکاف کو ترجیح دی۔ لیکن حاسدین کا منہ کون بند کر سکتا ہے........ خلقت شہر تو کہنے کوفسانے مانگے........ ان کے بقول پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے پہلے دھرنے کے شرکاءکی تعداد بہت مبالغے کے ساتھ بھی تین، ساڑھے تین ہزار سے زیادہ نہ تھی حالانکہ اس میں پنجاب اور خیبر سے بھی کارکنوں کو بلایا گیا تھا۔ سندھ سے بھی لوگ آئے ۔ گذشتہ سال حلقہ55 (راولپنڈی) کے ضمنی انتخاب میں کپتان کے امیدوار نے ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس دھرنے میں یہ سب مل ملا کر بھی اتنے بنے کہ”لنچ بکسوں“ کی خاصی تعداد بچ رہی۔ دوسرا دھرنا 13 اگست کی شب تھا‘ جب سارا پنڈی / اسلام آباد یوم آزادی منانے سٹرکوں پر نکلا ہوا تھا۔ تماش بین یہاں بھی کچھ دیر کو رکے اور یوں دور دور تک دھرنا ٹھا ٹھیں مارتا نظر آیا۔ لیکن تیسرا دھرنا پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ جانا تھا چنانچہ گذشتہ کابھرم رکھنے کےلئے اسے منسوخ کرنا ہی مناسب سمجھا گیا۔ اسی دوران جڑواں شہروں کے صحافیوں کےلئے دعوت افطار میں میزبان کی غیر حاضری پر بھی جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔ اسلام آباد سے کچھ صحافیوں نے لاہور میں دوستوں سے رابطہ کیا کہ کپتان یہاں تو نہیں؟
اس سے اگلے روز وہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں شیخ رشید کے ساتھ موجود تھے۔ کپتان کے میڈیا ایڈوائز رز کا مشورہ ہے کہ وہ اول تو ”سولو شو“ کا تقاضہ کیا کریں جس میں کوئی اور نہ ہو۔ کسی اجتماعی پروگرام میں شرکت کرنا پڑے تو ےہ بات یقینی بنائیں کہ دیگر شرکاءان کی سطح کے ہوں۔ ایک دوبار ایسا بھی ہوا کہ کپتان کی گفتگو کے دوران اینکر پرسن کو معلوم ہوا کہ پرویز رشید فون پر ہیں اور نواز شریف پر کسی الزام کا جواب دینا چاہتے ہیں لیکن کپتان نے ےہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان سے بات کرنی ہے تو نواز شریف کریں، نواز شریف کے کسی ”تنخواہ دار“ نے بات کرنی ہے تو عمر سرفراز چیمہ سے کرے (تو کیا چیمہ صاحب کپتان کے تنخواہ دار ہیں؟) یہی سلوک ایک دو بار مشاہد اللہ خان کے ساتھ بھی ہوا۔
اسی پروگرام میں کپتان نے یہ ”پیشکش“ بھی کی کہ انہیں سندھ کا گورنر بنا دیا جائے تو وہ صرف تین ماہ میں حالات پر قابو پا لیں گے۔ پرویز رشید اور رانا ثناءاللہ کے بقول یہ کپتان کا حسن طلب سہی لیکن منی پاکستان کو بچانے کے لئے یہ سودا اتنا مہنگا بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ کپتان کی ناکام یا ادھوری اننگز میں ایک اور کا اضافہ ہو جائے گا۔