خادم پنجاب کے لئے لمحہ فکریہ

25 اگست 2011
خواجہ عبدالحکیم عامر
نوائے وقت کے نیوز رپورٹر کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کی سالہا سال سے ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے سستی ترین ادویات خریدنے کی پالیسی تبدیل نہ ہو سکی۔ ان ادویات میں قوت مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت انتہائی کم ہوتی ہے اس لئے مریض جلد صحت یاب نہیں ہوتے۔ بتایا گیا کہ لاہور میں میو، جناح، جنرل، سروسز اور چلڈرن جیسے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں اس وقت مختلف بیماریوں کے لئے 165 سے زیادہ اقسام کی ادویات دستیاب ہیں جو مقامی فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیار کرتی ہے۔ محکمہ صحت کی پالیسی کے مطابق ہسپتالوں میں ان ادویہ ساز کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جاتے ہیں جو مارکیٹ میں سب سے کم قیمت کی ہوتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہونے والی ادویات زیادہ تر غیر معیاری ہوتی ہیں اور یہ کھلی مارکیٹ سے دستیاب نہیں ہوتیں۔
گذشتہ وقتوں کی بات ہے جب سرکاری ہسپتالوں کی دوائیاں بعض بے ایمانوں کے ذریعے کھلی مارکیٹ میں لا کر بیچی جاتی تھیں ان دنوں دوائیوں کا کچھ نہ کچھ معیار ضرور ہوتا تھا کہ مارکیٹ کے دکاندار ہسپتال کی دوائیوں کو اونے پونے داموں خرید کر بیچ دیا کرتے تھے اس غلیظ کاروبار میں دکانداروں اور ہسپتالوں کی کالی بھیڑوں کا مشترکہ فائدہ ہوا کرتا تھا مگر آج کا دکاندار ہسپتالوں سے چرائی گئی دوائی خریدنے کو تیار نظر نہیں آتا کیونکہ غیر معیاری دوائی خرید اور بیچ کر وہ خود اور اپنے کاروبار کے لئے خطرہ مول لینا نہیں چاہتا۔
مذکورہ غیر معیاری دوائیاں ہسپتالوں میں محکمہ صحت پنجاب اور ہسپتالوں کے بعض مکروہ لوگوں کی منظوری کے بعد پہنچتی ہیں۔
Disprin ایک سستی ترین دوائی ہے لیکن آپ کو جان کر حیرت اور دکھ ہو گا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتال مستحق مریضوں کو ڈسپرین کی جگہ Solprin دے رہے ہیں۔ یہ دوائی شائد مارکیٹ میں موجود ہی نہیں ہے Disprin کی ایک گولی اگر پچاس پیسے کی بکتی ہے تو Solprin یقیناً دس پیسے میں خریدی جاتی ہو گی۔ یہیں سے دوائی کے معیار خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی نیک نیتی پر شک نہیں اور یہ سچ ہے کہ وہ بیماروں کے ہمدرد اور غم خوار ہیں مگر اس حقیقت کا ان کے فرشتوں کو بھی شائد علم نہیں کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں دو نمبر اور مشکوک دوائیوں کی ریل پیل ہے۔ تعلق داروں کے منہ LP کے ذریعے بند رکھے گئے ہوئے ہیں غریب جائے جہنم میں مرتا ہے تو مرے۔
خادم اعلیٰ پنجاب سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے جس قدر جانفشانی کے ساتھ کام کر رہے ہیں پنجاب کی بیوروکریسی اتنی ہی طاقت سے شہباز شریف کے کئے دھرے پر پانی پھیر رہی ہے۔ اسے افسر شاہی کی سازش کہا جا سکتا ہے اس کا فیصلہ خادم پنجاب خود کر سکتے ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...