پوزیشن ہولڈر بچوں کا خادم پنجاب!

25 اگست 2011
آج امتحانات میں پوزیشنیں حاصل کرنے والے بچوں کی پنجاب میں سرکاری سطح پر جس انداز میں پذیرائی اور سرپرستی کا اہتمام جناب شہباز شریف کرتے ہیں اس سے بچے ہی نہیں ہم ”بڑے“ بھی ان کیلئے دعاگو ہیں کہ اللہ اس شخص کو ایسے کاموں کی اور زیادہ توفیق دے۔ 90۔شاہراہ قائداعظم (ایوان وزیر اعلیٰ) میں پاکستان بھر کے پوزیشن ہولڈر بچوں کے اعزازمیں منعقدہ تقریب میں جب خادم پنجاب بچوں میں لاکھوں روپے کے چیک اور اسناد وغیرہ تقسیم کرنے لگے تو ہمیں بھی سٹیج پر بلا کر ساتھ کھڑا کر لیا اور صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہمارے ہاتھوں سے پوزیشن ہولڈر بچوں کو انعامات دلوا کر اپنی طرف سے تو ہماری بھرپور عزت افزائی کی مگر ہم دل ہی دل میں شرمندہ ہوئے جاتے تھے کہ جن لائق بچوں کو انعامات دینے کا اعزاز ہم حاصل کر رہے ہیں ان کے نمبرز اتنے زیادہ ہیں کہ ہم جیسوں نے تو کبھی خواب میں بھی اتنے نمبر حاصل نہیں کئے ہوں گے۔ میں نے ساتھ کھڑے وزیر اعلیٰ کے کان میں اس دکھ کا اظہار کیا تو انہوں نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ ”زندگی میں ”امتحان“ تو کبھی ختم نہیں ہوتے، چلیں آپ اگلے کسی امتحان میں اتنے نمبر حاصل کر لیجئے گا“.... مجھے یاد ہے گذشتہ برس ایسی ہی تقریب سے خطاب کا مجھے حکم ملا تو عرض کیا تھا کہ ”بچوں کے ساتھ ساتھ محترم وزیر اعلیٰ کو ان ”بڑوں“ کیلئے بھی شاباش کا کوئی اہتمام کرنا چاہئے جو ان کے جذبوں پر عمل کرنے کیلئے رات دن ایک کر دیتے ہیں اور اس کے باوجود ان کی شاباش سے محروم رہتے ہیں بلکہ اس امید میں مبتلا رہتے ہیں کہ کسی بھی لمحے انہیں ”پھڑکایا“ جا سکتا ہے۔ اس پر تقریب میں موجود افسروں نے اتنی تالیاں بجائیں کہ ایک تعلیمی تقریب ”جلسہ گاہ“ کا منظر پیش کرنے لگی۔ خود وزیر اعلیٰ پنجاب بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ اس برس یوم آزادی کے موقع پر انہوں نے کارکردگی دکھانے والے کچھ افسروں کو شاباش کے ساتھ انعامات بھی دیئے تو مجھے احساس ہوا کہ کچھ اچھی باتوں کو ایک کان سے سن کر وہ دوسرے کان سے نکال نہیں دیتے اس پر عمل کرتے ہیں۔ جیسے قلم کار نے ایک بار ان کی توجہ دلائی تھی کہ وہ خادم اعلیٰ نہ لکھا کریں تو انہوں نے فوراً ہی اپنے نام کے ساتھ خادمِ پنجاب لکھنا شروع کر دیا تھا اور یہ بڑی بات ہے ورنہ ہمارے اکثر حکمران تو ذرا سی اختلافی بات کو ذاتی دشمنی سمجھنے لگتے ہیں۔ اتوار کو 90۔شاہراہ قائداعظم پر منعقدہ تقریب میں پاکستان بھر کے پوزیشن ہولڈر بچوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ جناب شہباز شریف نے تعلیمی نوازشات کا سلسلہ دوسرے صوبوں کے طلبہ تک وسیع کر کے صوبوں کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ایک ایسے نئے نظام کی بنیاد رکھی ہے کم از کم مجھے تو پورا یقین ہے ان کے اس عمل سے ضرور ہماری زندگیوں میں ایسا وقت آئے گا جب صوبائی تعصب نام کی لعنت سے ہم مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔ دوسرے صوبوں سے آنے والے طلبہ نے جس خوبصورت اور والہانہ انداز میں پنجاب کے حکمران اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں دعائیں دیں ہمیں بھی ان پر رشک آنے لگا۔ یہ کریڈٹ بھی شہباز شریف کو ہی جاتا ہے کہ غریبوں کے لائق اور ہونہار بچوں اور ان کے والدین کو انہوں نے اتنی عزت بخشی کہ ایوان وزیر اعلیٰ کے سٹیج پر کھڑے ہو کر وہ اپنے حالات اس انداز میں بیان کر رہے تھے جیسے غربت ان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہو۔ یقین کیجئے اس روز وہ دنیا کے سب سے بڑے دولت مند دکھائی دے رہے تھے اور تقریب میں موجود اربوں کھربوں پتی ارکان اسمبلی اور وزیروں شذیروں کی حیثیت ان کے سامنے زیادہ سے زیادہ گداگر کی سی محسوس ہو رہی تھی!!