جمعرات‘24 رمضان المبارک 1432 ھ‘ 25 اگست 2011ئ

25 اگست 2011
بھارتی سیکرٹری تجارت نے کہا ہے کہ امین فہیم کے دورے پر بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک قرار دیا جا سکتا ہے۔
امین فہیم ”فہم“ سے کام لیں‘ خون سے کھینچی لکیر کو مٹانے کی ناکام کوشش مت کریں‘ بھارت کل بھی پاکستان کا دشمن تھا‘ آج بھی ہے اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر سے غاصبانہ قبضہ چھوڑنے تک ”انتہائی ناپسندیدہ“ ملک رہے گا۔
جنگ عظیم دوم میں ہندوستانی فوج کا جرمن فوج سے ٹکراﺅ ہوا تو جرمن نے عام گولیوں کے بجائے ڈم ڈم گولیاں استعمال کرنا شروع کردیں‘ جو عام طور پر شیر‘ ہاتھی یا دیگر خطرناک جانوروں کو مارنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اتحادیوں نے پاپائے روم کے ذریعے اس غیرانسانی سلوک کیخلاف جرمن حکومت سے احتجاج کیا تو جرمن حکومت نے اس احتجاج کے جواب میں ایک ہٹے کٹے سکھ فوجی کو پاپائے روم کے پاس بھیجا جس کے سر کے بال لمبے لمبے تھے‘ داڑھی‘ خونخوار چہرہ اور خوفناک آنکھیں تھیں اور ایک رقعہ لکھا کہ ”جب انگریز ہمارے خلاف لڑنے کیلئے ایسی بن مانس قسم کی مخلوق بھیج رہی ہے تو آپ بتائیں ہم ان کو مارنے کیلئے ڈم ڈم گولیاں استعمال نہ کریں تو اور کیا کریں؟
ہندو بنیا بھی کشمیر میں ایسی ہی خون خوار فوج کو بھیج کر ہماری شہ رگ کو دبوچے ہوئے ہے‘ پاکستانی حکومت ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اس پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے لیکن عوام انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دنیا کے ظالم ترین اور غاصب ملک کا خطاب دیتے ہیں‘ امین فہیم خدارا! عوام سے اس کا حق تو مت چھینو۔ وہ کشمیر میں ظلم کرنے کے باوجود پسندیدہ ملک کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمیں بھی اس پر ڈم ڈم کی گولیاں استعمال کرنی چاہئیں چہ جائیکہ اس کیلئے رطب اللسانی کی انتہاءکر دی جائے۔
پانی ہمارے دریاﺅں کا ہندو بیشک خشک کریں
فوج ہماری بالکل چپ ہے پی پی نے یہ کام کیا
مت پوچھ اے دل اپنے وطن میں بدحالی کیوں پھیلی ہے
اس پی پی نے عوام سے دھوکہ ہر دن سرعام کیا
٭....٭....٭....٭
کراچی میں چار ٹارگٹ کلرز کے چہرے ڈھانپ کر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا‘ 13 افراد کے قتل کا اعتراف۔
کراچی میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی کو اب سفید کپڑے سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی ساکھ کو برقرار رکھا جائے۔ ٹارگٹ کلرز نے قتل عام کرتے وقت جب ہاتھوں پر دستانے نہیں پہنے تو پولیس کو انکے چہرے ڈھانپنے کی کیا ضرورت پیش آئی‘ اگر یہ واقعی قوم کے مجرم ہیں تو انہیں کھلے چہروں کے ساتھ میڈیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھا۔ پردے کے پیچھے کون ہیں؟ اصلی ٹارگٹ کلرز ہیں یا پولیس اپنی روایتی مہارت کے بل بوتے پر بے گناہوں کو ”قربانی کا بکرا“ بنا کر پیش کر رہی ہے۔
کیونکہ پولیس کو جب اپنی کم بختی کا خطرہ ہوتا ہے تو یہ ”سوکھے درخت“ سے بھی اعتراف جرم کروا لیتی ہے اور جب جیب گرم ہوتی ہے تو مجرموں کو جرم سے ایسے نکالتی ہے‘ جیسے خواتین آٹے سے بال نکال لیتی ہیں۔ اگر کراچی کی پولیس تہیہ کرلے کہ امن کے دشمنوں کو بیچ چوراہے کھڑا کرکے قتل و غارت گری پر قابو پانا ہے تو یقیناً اگلے چند گھنٹوں میں وہاں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہے گا‘ بہرحال ہم حکمرانوں سے یہی کہیں گے....
یا ظالم نوں ظلم توں روکو
یا پالو حکمرانو چوڑیاں
رحمان ملک اینڈ کمپنی اگر چوڑیاں پہن لے تو قوم کبھی ان سے امن کی بھیک نہیں مانگے گی۔
٭....٭....٭....٭
امریکہ میں دلیر خاتون دکاندار نے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی‘ ڈاکو کی درگت۔
ہم اس امریکی خاتون کا غائبانہ شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہماری خواتین کیلئے ایک قابل تقلید راستہ چھوڑا ہے۔ یہ ایسا ہی شکریہ ہے جیسے ہم بچپن میں آموں کے باغ میں جا کر نیچے گری ”امبیوں“ کو اٹھاکر طوطوں کا شکریہ ادا کرتے کہ انہوں نے چٹنی بنانے کا بندوبست کر دیا۔
کبھی کبھی ”امبیاں“ نہ ملتیں تو چھوٹے دانتوں سے طوطے جیسے ”ٹک“ لگانے کی کوشش کرتے لیکن بسااوقات باغ کا رکھوالا خوش آمدید کہنے کیلئے آم جیسی شکل بنا کر کھیت کے کنارے کھڑا ہوتا۔ وہ ہماری ویسی ہی ”سیوا“ کرتا جیسی امریکی خاتون نے ڈاکو کی درگت بنا کرکی۔ پاکستانی خواتین کو بھی اسی دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن پاکستان میں یہ سلسلہ چل نکلا تو خواتین کے ہاتھوں جوتے کھانے کیلئے بہت سے شرفاءبھی میدان میں نکل آئینگے کیونکہ انہیں تو ”آم کے آم گٹھلیوں کے دام“ ملنا شروع ہو جائینگے جس سے حالات کے مخدوش ہونے کا زیادہ خطرہ ہو گا۔ اکثر مجلسوں میں گویا ہونگے....
بیری والا گھر مینوں ہن تیک یاد اے
جتھے جتھے ٹھکی جُتی‘ ہن تیک یاد اے
٭....٭....٭....٭
گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے اپنے ایڈوائزر عارف علوی کا نوٹیفکیشن کینسل کر دیا۔
گورنر ہاﺅس میں کوئی قانونی کام بھی ہوتا ہے‘ یا سب غیرقانونی کاموں کی آماجگاہ یہی ہے۔ کبھی قومی مشاہیر کے ناموں سے منسوب ہالوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے‘ کبھی غیرقانونی طور پر گورنر کا لیٹرپیڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ لطیف کھوسہ اگر اس منصب کو سنبھالنے کے اہل نہیں تو صوبے کی جان چھوڑیں اور اپنا پرانا دھندہ شروع کر دیں‘ اب تو ہر ایک کی زبان پر جاری ہے....
گورنر کھوسے دا ہر کم باکمال اے
اوہدے سر تے ہک نہ وال اے
اوہدا عملہ اس توں نہال اے
اس گورنر ہاﺅس میں پہلے انکے بیٹے کا لیپ ٹاپ چوری ہو گیا تھا‘ نہ جانے اور کیا کچھ ہورہا ہے‘ کسی زیرک کو کھوج لگانا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ اور کون کونسے غیرقانونی کام یہاں سرانجام دیئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو پتہ تو چلے کہ اس چار دیواری میں انکی قسمت کے فیصلے کون اور کس انداز میں کرتا ہے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...