نسخہ¿ کیمیا

25 اگست 2011
امریکی مفادات کی جنگ لڑتے لڑتے، شریعت سے بچتے بچاتے، روشن خیالی، سیکولر ازم کے ڈھول پیٹتے پیٹتے ہماری تمام قیادتوں نے اپنی کرسیوں، ڈالروں کی خاطر ہمیں کہاں لاکھڑا کیا۔ وہ خونیں کھیل جو پہلے لال مسجد اور قبائل میں کھیلا گیا آج عروس البلاد کراچی کو لہو لہو کئے دے رہا ہے۔ یہ فصل ہم نے وہاں کاشت کی تھی۔ دور سے بیٹھے مطمئن دیکھتے تھے، آج وہی مناظر ہماری اقتصادی شہ رگ کو تباہ حال کئے دے رہے ہیں۔ دستی بم، راکٹ، ایمبولینسوں پر فائرنگ، اغوا کاری، گلیاں سونی، بازار ویران، تجارت ٹھپ، روزگار برباد، طویل عرصے تک اس ملک کی ہر بلا طالبان کی وجہ سے تھی۔ گھر میں ہانڈی بھی جلتی تو پٹی چل جاتی ”تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی!“ اب یہ بوری بند لاشیں، ٹارچر سیلز کی صنعت، کئی دہائیوں پر محیط اس کی پرچھائیں ایک مرتبہ پھر کراچی کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ یوں گویا نہ کوئی حکومت نہ کوئی قانون نافذ کرنےوالے ادارے، نہ عوام الناس کے جان و مال کو تحفط دینے کا کوئی ذمہ دار۔
پس منظر میں یہ آوازیں ہیں ”قاتلوں دہشت گردوں کو سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میسر ہے لہٰذا ہاتھ کون روکے“ اور پھر وہی منظر، اجڑتے برباد ہوتے گھرانے، گولیوں کی تڑتڑ، آگ، دھواں، ایمبولینسوں کے ہوٹر، روتی پیٹتی عورتیں، خاک آلود یتیم بچے۔ قانون کا نفاذ کون کرے کیسے کرے۔ قانون کے محافظ خود خروٹ آباد، سرفراز شاہ، ماورائے عدالت اغوا و قتل کی دبی گھٹی سسکتی ان گنت کہانیاں، سوات کے چھ کم عمر بچوں پر برستی گولیاں اور اب محمد عامر کی خون رنگ داستان۔ عدالت (ہائی کورٹ) سے بری ہونے کے بعد اغوا اور لاپتہ کئے جانےوالوں میں سے ایک خونچکاں لاش جس کی اطلاع گمنام فون کے ذریعے بھائی کو دے دی گئی کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے وصول کر لو۔ قتل و غارت گری ایک صنعت بن چکی ہے۔ اصل صنعتکار، ساہوکار وہی گورا صاحب ہیں جو کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، تمام بڑے شہروں میں نیٹ ورک قائم کر چکے ہیں۔ آپ سے تو اضافی طور پر ملتان اور کوئٹہ میں قونصل خانے مانگ رہے تھے۔ ورنہ وہ جال بچھا چکے۔ قیادتیں انکی مٹھی میں ہیں‘ دم مارنے کی مجال نہیں۔ مقامی افراد بے روزگاری اور ایمان، اسلام، آخرت سے فارغ ہونے کی بنا پر ان کے ہاتھ ڈالروں کے عوض تھوک کے بھا¶ میسر ہیں۔
یہ امریکی فوجی سانڈ (دو کرنل، کیپٹن، سارجنٹ) قانون سے بالاتر ہیں۔ پورا پاکستان انکی چراگاہ ہے انہیں کسی دستاویز کی ضرورت نہیں وہ خود قانون ہیں۔ موٹر وے پولیس کو روندتے ہوئے کوئی گزر جائے اور اس کے بعد ایک گھنٹے کا مزید سفر، ان گنت ناکے طے کر کے منزل مقصود (قونصل خانے) جا پہنچے۔ کیا یہ کسی پاکستانی کیلئے ممکن ہے؟ گولیاں برسا کر کم از کم ٹائر ورنہ سینے چھلنی کئے جا سکتے ہیں ایسی دیدہ دلیری پر۔
پاکستان کو اس وقت ضرورت ہے بے خوف، بہادر، باغیرت قیادت کی جو امریکہ بھارت سے نمٹنے کا حوصلہ، جرا¿ت ایمان رکھتی ہو۔ اب چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ سر تا پا ایسی قیادت جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی ہو۔ اصول یہی ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے دنیا اس سے لرزتی کانپتی ہے۔ وہ محدود نفری کے ساتھ بھی دشمن کو ناکوں چنے چبواتا ہے خواہ وہ کل کے صلیبی لشکر کے مقابل کا صلاح الدین ایوبیؒ ہو یا آج کے صلیبی لشکروں کا مدمقابل!
رمضان ہو، پاکستان ہو اور ہم اس حال میں ہوں؟ روزے کا حاصل، اس کا مقصود ہی صرف ایک ہے خدا خوفی۔ لعلکم تتقون۔ تاکہ تم اللہ سے ڈرنے والے بن جا¶۔ کراچی تا قبائل تمام تر مذکورہ واقعات کے پیچھے کیا اصل وجہ صرف ایک ہی نہیں ؟ اللہ سے بے خوفی! امریکہ کا خوف یا امریکہ اور اپنے مفادات کی محبت۔ ہم اتنے دیوانے ہو چکے ہیںکہ مارے سیکولر ازم کے، لاہور کے امیر زادوں نے برطانیہ کی وزارتِ ساز و آواز کے زیر اہتمام شبِ ہلڑ بازی منائی۔ بطور خاص لندن کے نائٹ کلب سے میراثی منگوایا گیا۔ طلوع فجر پر اپنے کزن کے ہمراہ ناچتی زوبیہ نے پاکستان کو بدل ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انگریزی ہائی فائی سکولوں کی پیداوار پاکستانی نیرو نما امرا¿ کی یہ اولادیں انتہا پسندی ختم کرنے کےلئے رمضان کی متبرک راتیں جہنم کے بند دروازے کھٹکھٹاتے گزار رہی ہیں۔
ایک طرف خونچکاں پاکستان، سحری افطاری سے محروم بہت بڑی آبادی اور دوسری جانب رنگیلا شاہ کی یہ نسل۔ یہ سیکولر ازم کے ببول کے وہ کانٹے ہیں جو ہم نے سالہا سال بوئے ہیں اور اسی کے یہ تمام مظاہر ہیں۔ قرآن بند، حدیث سے لاعلم، اجڈ بدمعاش گوروں کو حسرت و یاس سے دیکھتی یہ نسلیں پاکستان کو اسکے سوا دے بھی کیا سکتی ہیں۔ بوری بند لاشیں، اقتدار کی ہوس اور مال و دولت کی پوجا پاٹ کی خاطر انسانیت کی تمام اقدار کی پامالی۔ چند روزہ زندگی سے آگے کیا ہے؟ کبھی رُک کر سوچا؟ حسین اور خوبصورت ترین دنیا پا کر بھی بالآخر وہ دن تو آ کر رہنا ہے جب ’لاد چلے گا بنجارہ‘ ۔!
کسی چارپائی پر کسی تابوت میں بالآخر ہر ایک فرد کو دو چادریں اوڑھ کر تو لیٹنا ہی ہو گا۔ اسکے بعد کیا ہے؟ یہ جواب نہ دنیا کے کسی سائنس دان کے پاس ہے۔ نہ بڑھکیں مارنے والے دانش و بینش کے سیکولر اجارہ دار دانشوروں کے پاس۔ نہ آسمان پر تھگلیاں لگانے والے امریکہ یورپ کے پاس نہ تھرکتے میڈیا کے پاس! یہ چند روزہ امتحان سے نکل کر ایک مکمل زندگی کو تن تنہا سامنے پائیں گے۔ المیہ تو یہ ہے کہ
فیضِ فطرت نے تجھے دیدہ¿ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش
سو آج انہی چمگادڑوں کی حکمرانی ہے جو قوم کا خون چوس رہی ہیں۔ عوام الناس اور حق کے درمیان استحصال کا ایک عالمی نظام ہے جس کے یہ ادنیٰ غلام ہیں۔ جس کا مقصود یہی ہے کہ
چشمِ آدم سے چھپاتے ہیں مقاماتِ بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار
رمضان روح کی زندگی، تازگی، توانائی، نورِ ایمان اور تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ آئےں درپیش مناظر کو تازہ کر لیا جائے جہاں ساروں کو جانا ہے۔ ہم جو دنیا کو روشنی دینے کو بھیجے گئے تھے خود تیرہ و تار ہوئے بیٹھے ہیں۔ نورِ ہدایت کا مینوئیل تو قرآن ہے جسے ہم نے نصابوں سے نکالنے، خود گھپ اندھیروں میں غرق رہنے، نسلوں کو محروم رکھنے کا جُرمِ عظیم کیا ہے۔ نتیجہ ع
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
آئیے رمضان کی جاتی ساعتوں میں یہ مناظر قرآن سے تازہ کر لیں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔
کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لا¶ نکالو اپنی جان، آج انہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائےگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے“ اور اللہ فرمائے گا ”لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے پیش ہو گئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ تم سب پیچھے چھوڑ آئے ہو اور اب ہم تمہارے ساتھ ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے۔ تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہو گئے جن کا تم زعم رکھتے تھے۔ (الانعام : 93-94)
قرآن سے نظریں چُرا کر زندگی گزارنے کا انجام بھی دیکھ لیجئے ”اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے یہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل کی ہے تو کہتے ہیں اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں یہ باتیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز وہ اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بربنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں۔ دیکھو کیسی سخت ذمہ داری یہ اپنے سر لے رہے ہیں۔“ (النحل : 24-25)
دوسرا منظر بھی ہے وہ جو قرآن کےلئے کہتے ہیں :
”بہترین چیز اتری ہے اس طرح کے نیکوکار لوگوں کےلئے اس دنیا میں بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی انکے حق میں بہتر ہے۔ بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا، دائمی قیام کی جنتیں جن میں وہ داخل ہونگے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی اور سب کچھ عین وہاں انکی خواہش کے مطابق ہو گا یہ جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو۔ اللہ سے اُن ڈرنے والوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں سلام ہو تم پر جا¶ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔“ (النحل 30-32)
بات تو بس یہی ہے ”کہہ دیجئے کہ یہ حق تمہارے رب کی طرف سے اب جس کا چاہے مان لے جس کا جی چاہے انکار کر دے“ (الکہف)
علم کی حد سے پرے بندہ مومن کے لئے
لذتِ شوق بھی ہے نعمتِ دیدار بھی ہے
آگے کیا کچھ رکھا ہے قرآن و حدیث کا ہر صفحہ گواہ ہے۔ بات صرف نفس کا بُت، امریکہ کا بُت، دنیاوی لذات و مفادات کا بُت ضربِ لا الہ سے توڑ کر الا اللہ کہنے کی ہے۔ للہ کہہ دیجئے۔ اوپر مذکور مناظر میں کہیں تو ہر فرد کو جا کر فٹ ہونا ہی ہے۔ آج مہلتِ عمل ہے، مہلتِ توبہ ہے، واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔ کل صرف حسرتیں، آہ، کاش، ہاتھ ملنے اور پچھتاو¶ں کے سوا کچھ نہ ہو گا (خدانخواستہ) ۔
ان آیات کا مخاطب ہر انسان، ہر مسلمان، ہر لیڈر، ہر جرنیل، ہر سپاہی، ہر باس، ہر ماتحت، سب ہی مرد و زن ہیں۔ نبی کا وعدہ ہے یہ ایک کلمہ ہے مجھ سے قبول کر لو تو‘ عرب و عجم تمہارے تابع ہو جائینگے۔ آپ کا وعدہ پورا ہوا۔ شرط صحابہ کرامؓ کی طرح کلمہ قبول کر لینے کی ہے۔ آج بھی نسخہ¿ کیمیا یہی ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ والا۔ واللہ ِ تاللہِ ۔ باللہِ ۔ اللہ رسول کے سارے وعدے سچے ہیں۔ آزما کر تو دیکھئے! یہی تریاق ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کا!