ہندوستان سے دوستی کیونکر ممکن ہے ؟ ....(آخری قسط)

25 اگست 2011
بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات ہی نہیں بلکہ دینی غیرت اور حمیت پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مہاراشٹر میں دہشت گرد ہندو تنظیموں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اس پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے اُن پر گولیاں برسائیں اور مظاہرین کو ہی مجرم بنا کر نشان عبرت بنا دیا۔ اسکے علاوہ اگر کہیں بھی دہشت گردی یا بم دھماکوں کی واردات ہو جائے تو بغیر کسی ثبوت کے ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ سنٹر فار ہیومن رائٹس اینڈ لا سے تعلق رکھنے والے وجے ہلمٹ ممبئی کی مختلف جیلوں میں کام کر رہے ہیں، انکے مطابق ممبئی کی جیلوں میں تقریباً چالیس فیصد مسلمان قیدی ہیں۔ سنیئر صحافی پرفل بدوانی کا کہنا ہے کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں ساڑھے تیرہ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد چالیس فیصد سے زیادہ ہے۔
(v) کہتے ہیں کہ فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی ہے سانپوں کو خواہ کتنا ہی دودھ کیوں نہ پلایا جائے موقع ملتے ہی وہ ڈسنے سے باز نہیں آتے۔ ویسے سانپ کو ہندو¶ں میں دیوتا سمجھا جاتا ہے اس لئے ہندو¶ں میں مسلم دشمنی کا زہر زہریلے سانپوں سے بھی زیادہ ہے۔ ہندو¶ں کےساتھ مفاہمت اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کےلئے اکبر بادشاہ نے اسلامی تعلیمات کی نفی کرتے ہوئے دین اکبری کے نام سے ایک نیا دین پیش کیا مگر بھارتی ہندو قیادت میں انتقام اور مسلم دشمنی کا یہ عالم ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے پر اندرا گاندھی نے نئی دہلی کے گرا¶نڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کی ایک ناری نے مسلمانوں سے ہزار سالوں کی ہزیمتوں کا بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریہ بحیرہ عرب میں غرق کر دیا ہے اور آج اندرا گاندھی کا پوتا ورون گاندھی کہتا ہے ”ہندوستان صرف ہندو¶ں کا ہے مسلمانوں کے نام خوفناک ہیں مثلاً کریم اللہ، معاذ اللہ اور اگر یہ مسلمان رات کوآپ کو ملیں تو آپ ڈر جائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان بُرد کر دیا جائے۔“ اندرا گاندھی اور ورون گاندھی کی ہرزہ سرائی سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دو قومی نظریہ ایک حقیقت تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ مسلمان ہندو¶ں سے الگ قوم ہے جس کا اپنا الگ دینی، نظریاتی روحانی اور تصوراتی تشخص ہے۔
ہمارے سیاست دان کہتے ہیںکہ ہندو¶ں اور مسلمانوں کی تہذیب اور کلچر ایک ہے۔ یہ محبت کی بات کرتے ہیں مگر اندرا گاندھی کا پوتا ورون گاندھی اترپردیش میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ”گیتا کی قسم، بھارتی جنتا پارٹی مسلمانوں کے سر قلم کر دےگی۔“ مسلمانوں کےخلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر اُسے کریمنل چارجز کا سامنا کرنا پڑےگا مگر ورون گاندھی نے مسلم دشمن تقریر پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا اور کہا ہے کہ اُسے ہندو ہونے پر فخر ہے اور ہندو قوم اسکی حمایت کرے۔
(vi) بھارت جس کے اصلی چہرے کو چھپانے کےلئے بھارتی قیادت نے دنیا کے سامنے دمکتے بھارت کا نعرہ لگایا اور اپنی اتھاہ میں گری ہوئی غلاظت کے کلچر کو بالی وڈ کے غازے تلے چھپانا چاہتا ہے وہاں 60 کروڑ افراد غربت کے معیار سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ بھارت سے متاثر سیفما کے اراکین کی خدمت میں بی بی سی اردو آن لائن کی رپورٹ پیش خدمت ہے اور دمکتے بھارت کے سحر میں مبتلا لوگوں کی آنکھیں کھولنے کےلئے عبرت انگیز کہانی ہے۔
”ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ کی رہائشی دو لڑکیوں نے اپنے باپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے خاندانی جوتشی نانترک کے ساتھ مل کر اُنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں کی ماں بھی انکو مجبور کرتی ہے کہ جو کچھ ان کا باپ اور نانترک کہہ رہے ہیں وہ ایسا کرتی رہیں اور زبان نہ کھولیں کیونکہ ایسا کرنے سے دیوتا¶ں کی کرپا سے انکے کے گھر میں خوشحالی آئےگی۔ انسپکٹر مہاجن کا کہنا ہے کہ یہ انکی زندگی میں ایسا کیس ہے جہاں باپ کےساتھ سگی ماں بھی بیٹیوں کی عصمت دری میں شامل ہے۔ تہلکہ ڈاٹ کام کے مطابق بھارتی معاشرے میں غربت کے مارے والدین اور بھائیوں کے ہاتھوں جسم فروشی کےلئے روزانہ لاکھوں معصوم بچیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔
قارئین اس قدر خوفناک غربت، افلاس، بے حیائی اور بے غیرتی کے کلچر کی حفاظت کےلئے ہندوستان کے ارباب اقتدار ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ وہ دفاعی بجٹ کو بڑھاتے ہوئے اربوں ڈالرز کا اسلحہ خریدیں۔ حال ہی میں ہندوستان نے اسرائیل، روس، امریکہ اور برطانیہ سے 40 ارب ڈالرز کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے۔ کیا وہ یہ یہ سارا اسلحہ اس لئے خرید رہا ہے کہ اس کی مالدیپ، بنگلہ دیش، سری لنکا یا نیپال کے ساتھ کوئی دشمنی ہے، نہیں ایسا نہیں ہے اس کو ہر وقت پاکستان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور اوپر سے دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر ہندوستان نے پاکستان کو توڑا مگر بنگلہ دیش بھی اسلامی جمہوریہ بن گیا۔ ہم بے غیرت دشمن کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں وہ اپنی آبی جارحیت سے پاکستان کی زراعت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔
پاکستان کو ریگستان بنانے پر تُلے ہوئے بھارت کے خلاف جب نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی سخت م¶قف اپناتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ان ڈیموں کو میزائلوں سے تباہ کر دینا چاہئے تو کمزور دل سیاستدانوں اور دانشوروں کے دل بیٹھ جاتے ہیں۔ محترم مجید نظامی کے م¶قف کو ڈاکٹر ماریہ سلطان ڈائریکٹر جنرل سا¶تھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹیٹوٹ (SASSI) کس طرح آگے بڑھاتی ہیں ”بھارت یاد رکھے کہ آبی جارحیت میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو پاکستان کا ایٹمی ڈاکٹرائن صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں ہے۔ اقتصادی ناکہ بندی، معاشی تباہی اور خشک سالی بھی پاکستان کے استحکام اور سلامتی کےلئے خطرہ ہے۔ ہندوستان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایٹمی صلاحیت کے استعمال کے وقت کا تعین اور فیصلے کا تعلق محض سرحدی اور روایتی جنگ سے نہیں ہے ایٹمی تھریش ہولڈ وہ مقام فکر ہے جب آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت کا استعمال کرنا ہے یا نہیں۔ بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں اگر ایک طرف پاکستان کے دریا خشک ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ کولڈ وار اسٹارٹ کرتے ہیں تو پاکستان کی سلامتی کےلئے ہمیں یہ سب کچھ کر گزرنے کا حق حاصل ہو گا۔“ قارئین ہمارے سیاستدان ہندوستان کےساتھ دوستی ضروری کریں مگر کم از کم کشمیر اور پانی کے مسئلے اور قوم کے تشخص کی قیمت پر نہیں ورنہ تاریخ میں مولانا ابوالکلام آزاد یا سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کا مقام پائینگے جنہیں پاکستان ہندوستان میں کوئی بھی یاد نہیں کرتا ہے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...