A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

سندھ حکومت کی شرپسندوں کو ” وارننگ“ اور ٹارگٹ کلرز کا بھارت سے تربیت لینے کا انکشاف.... کیا حکمرانوں نے دانستہ آنکھیں بند کر رکھی ہیں؟

25 اگست 2011
ایوان صدر اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت منعقدہ پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بدامنی پر قابو پانے کیلئے صدر مملکت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار دیدیا گیا۔ اجلاس جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور بعض وفاقی وزراءنے بھی شرکت کی‘ کراچی میں فوج نہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا اور طے کیا گیا کہ کراچی کے امن و امان کی بحالی کیلئے پولیس اور رینجرز سے ہی کام لیا جائیگا اور رینجرز کو ایف آئی آر درج کرنے کے سوا پولیس کے دیگر تمام اختیارات سونپ دیئے جائینگے۔ اجلاس میں سرجیکل اپریشن کابھی حتمی فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ کراچی میں انسانی قتل عام کی اجازت دی جا سکتی ہے نہ بھتہ لینے کی‘ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ خصوصی اجلاس میں بھتہ خور اور شرپسند عناصر کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں بند کردیں‘ بصورت دیگر ان کیخلاف سخت ایکشن لیا جائیگا۔ اجلاس میں بھتہ خوری کے جرم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
آگ اور خون کی آمیزش میں جلتے اور وہاں کے مکینوں کےلئے جہنم زار بنتے کراچی کو وحشت و بربریت کی علامت بنانے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا کھوج لگانے اور درد کا حقیقی مداوا کرنے میں حکمران پیپلز پارٹی آج بھی غیرسنجیدہ اور بے نیاز نظر آتی ہے جبکہ کراچی کے ان حالات کے اثرات مجموعی طور پر ملکی اور قومی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً صنعتی ترقی کا پہیہ جامد ہو رہا ہے‘ تجارت اور کاروبار میں مندے کا راج ہے‘ بے روزگاری عفریت بنتی نظر آرہی ہے اور بدامنی کے مہیب سائے پورے ملک پر پھیلتے جا رہے ہیں۔ ایک اخباری سروے رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہڑتالوں اور بدامنی کے نتیجہ میں گزشتہ صرف پندرہ دنوں میں قومی معیشت کو ایک سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس میں 35 سے 40 ارب کا صنعتی پیداواری نقصان ہے جبکہ صرف کراچی میں تاجروں کو روزانہ دو ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان پندرہ دنوں میں 100 سے زائد قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوا اور لاتعداد گاڑیوں اور املاک کو نذر آتش کیا گیا جبکہ خوف و وحشت کی اس فضا میں کراچی کے عوام عملاً گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور کاروبار بند ہونے سے دیہاڑی دار مزدور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ شہری سماجی زندگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور لوگوں نے اپنے عزیز و اقارب کی شادی بیاہ اور دوسری چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں بھی شریک ہونا ترک کر دیا ہے۔ عوام میں مایوسی آسیب کی طرح پھیل رہی ہے اور قتل و غارت گری میں مصروف شرپسندوں کیخلاف کوئی ٹھوس اور سخت ایکشن نہ ہونے کے باعث کراچی کے عوام کیلئے اچھے اور محفوظ مستقبل کی امیدیں بھی دم توڑنے لگی ہیں۔ حکومتی مشینری کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرپسندوں سے درخواست کی گئی کہ وہ کراچی چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں‘ قاتلوں‘ ڈکیٹوں‘ رہزنوں‘ بھتہ خوروں‘ شرپسندوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو بھلا اس سے بڑی رعایت اور کیا دی جا سکتی ہے کہ انہیں پکڑ کر ان کیخلاف سنگین جرائم کے مقدمات چلانے اور قرار واقعی سزا دینے کے بجائے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار حکمران انہیں شہر چھوڑ کر چلے جانے کی درخواست کر رہے ہیں‘ جب اجلاس کے اس فیصلے پر میڈیا کی جانب سے تنقید سامنے آئی تو شرپسندوں سے کراچی چھوڑ کر جانے کی رعایت واپس لےکر ان سے دوسری درخواست کی گئی کہ وہ اپنی کارروائیاں بند کر دیں۔ قانون کی عملداری کا اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے کہ مجرموں کو پکڑنے اور قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے انہیں اپنی مجرمانہ کارروائیاں ازخود بند کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
کیا حکومت اور حکومتی مشینری کے ایسے فیصلوں اور اقدامات سے امن و امان کی بحالی کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے؟ اسکے باوجود دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فوج کی خدمات حاصل کئے بغیر ہی محض پولیس اور رینجرز کی مدد سے شرپسندوں کی بیخ کنی کرلی جائےگی اگر یہ شرپسند عناصر حکومتی اتحادی جماعتوں کی صفوں میں ہی موجود ہونگے تو حکومت کو بچائے رکھنے کے فلسفہ کی بنیاد پر ایسے شرپسندوں کیخلاف کسی کارروائی کی نوبت کیونکر آپائے گی۔ گزشتہ روز پکڑے گئے پانچ ٹارگٹ کلرز نے خود پولیس کے روبرو اعتراف کرلیا ہے کہ ان میں سے چار کا لیاری گینگ وار گروپ اور ایک کا ایم کیو ایم متحدہ سے تعلق ہے۔ اس اعتراف کی روشنی میں تو کراچی میں جاری شرپسندی کی کارروائیوں کے پس پردہ محرکات اور ہاتھوں کا کھوج لگانے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے مگر صدر زرداری کی زیر صدارت منعقدہ کور کمیٹی کے اجلاس میں انہی جماعتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کے ہاتھ کراچی کے خونیں واقعات میں رنگے ہوئے ہیں۔
سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے تو یہ انکشاف بھی کردیا ہے کہ بھارت سے دہشت گردی کی تربیت لے کر آنیوالے متعدد ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں حکومتی اتحادی اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید بھی یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ کراچی کی بدامنی میں بھارتی ایجنسی ”را“ ملوث ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک تو یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ کراچی میں شرپسندی کے واقعات میں استعمال ہونیوالا اسلحہ اسرائیل ساختہ ہے‘ اگر وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان اور حکومتی اتحادی بھی اپنی اپنی معلومات کی بنیاد پر اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ کراچی کی بدامنی میں بھارت و اسرائیل کا ہاتھ ہے تو کیا اس امر کی تحقیقات نہیں کی جانی چاہیے کہ کراچی کے اندر کون کون بھارت اور اسرائیل کی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے اور انکے اصل مقاصد کیا ہیں؟
بھارت اور اسرائیل کے تو اپنے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے کہ ان کا آپس میں اور امریکی سرپرستی میں گٹھ جوڑ صرف پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور اسکی ایٹمی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کیلئے ہوا ہے۔ چنانچہ وہ پاکستان میں موجود کسی بھی کمزور پہلو سے اپنے مذموم مقاصد کےلئے فائدہ اٹھانے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگاتے۔ کراچی میں جس سفاکی کے ساتھ اور درندگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ انسانوں کو سڑکوں پر اوردفاتر‘ گھروں اور بازاروں میں گھس کر گولیوں سے بھونا جارہا ہے اور قیمتی املاک کے علاوہ مسافر بسوں کو مسافروں سمیت جلا کر خاکستر کیا جا رہا ہے‘ وہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ ایسا سفاکانہ انسانی قتل عام ملک دشمن وحشی درندے ہی کر سکتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی ہمارے حکمران ملک اور عوام کے موذی دشمن بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارت کیلئے بے قرار ہیں اور خود بھارتی ذرائع اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستان کے وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے آئندہ ماہ دورہ¿ بھارت کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک قرار دیا جا سکتا ہے۔ ملک کی تباہی اور شہریوں کے قتل عام میں ملوث بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے والے حکمرانوں سے بھلا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بالخصوص کراچی اور ملک کے دوسرے حصوں میں امن و امان کی حقیقی بحالی پر سنجیدگی کے ساتھ غور بھی کر پائیں گے؟
اس وقت جبکہ کم و بیش ملک کی تمام سیاسی اور دینی جماعتیں اور ملک کی سلامتی کیلئے فکرمند حلقے متقاضی ہیں کہ کراچی میں بدامنی اور شرپسندوں پر قابو پانے کیلئے آئین کے تحت افواج پاکستان کو ذمہ داری سونپی جائے مگر حکومت اس حل سے دانستہ طور پر گریزاں ہے تو پھر کراچی میں مزید انسانوں کی لاشیں گرنے اور تجارت و معیشت کو مزید نقصان پہنچنے سے بچانے کیلئے کون آگے آئیگا؟ کیا یہ حالات سول سوسائٹی کے متحرک ہونے اور حکومت پر دباﺅ ڈالنے کا تقاضہ نہیں کرتے؟ اگر فوج کراچی کے مسئلے کا حل نہیں تو پھر وہ حل کیوں نہیں نکالا جاتا جو موثر اور کارگر ثابت ہو؟ اس کیلئے کسی نے باہر سے آکر تو حکم نہیں دینا‘ اس لئے حکمران اپنی مصلحتیں اور مفادات بالائے طاق رکھ کر کراچی میں امن و امان کی بحالی کا حقیقی کردار ادا کریں‘ ورنہ کل کو سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔
انقلابِ لیبیا اور نئے حکمرانوں کا فرض
لیبیا میں کرنل قذافی کی طویل آمریت کے خلاف باغیوں کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر آ گئی ہے۔ باغیوں نے باب العزیزیہ میں قذافی کے ہیڈ کوارٹر سمیت دارالحکومت کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ کرنل قذافی اپنے اہل و عیال سمیت روپوش ہیں، اطلاعات کے مطابق الجزائر چلے گئے ہیں۔ اگرچہ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں لڑائی ہو رہی ہے تاہم اب یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ کرنل قذافی کی سات دن کم 42 سالہ آمریت انجام کو پہنچ گئی ہے۔ کرنل قذافی یکم ستمبر 1969ءکو درویش صفت 90 سالہ شاہ ادریس السنوسی کا تختہ اُلٹ کر برسرِ اقتدار آئے تھے۔ لیبیا میں باغیوں نے چھ ماہ قبل قومی عبوری کونسل کی تشکیل کرتے ہوئے ملک کی اہم شخصیت مصطفی عبدالجلیل کی قیادت میں بن غازی سے آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا تو قذافی نے حسبِ عادت مخالفین کو ”چوہا “قرار دے کر انہیں نیست و نابود کرنے کا حکم دیدیا اور ساتھ ہی باغیوں پر طیاروں سے بمباری کی اور ٹینک چڑھا دئیے، اس خونریزی نے امریکہ اور نیٹو ممالک کو ”انسانیت کے خلاف جرائم“ کی آڑ میں مداخلت کا موقع فراہم کر دیا۔
قومی عبوری کونسل کے رہنما¶ں نے نئی حکومت کی تشکیل کیلئے طرابلس پہنچنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بیشتر عرب ملکوں سمیت اب تک 32 ممالک نئی حکومت کو تسلیم کر چکے ہیں، آمریت کا خاتمہ دراصل نئے حکمرانوں کے کٹھن امتحان کا آغاز ہے، اگر وہ اُن مقاصد کی تکمیل نہ کر سکے جس کی خاطر اُنہوں نے بے پناہ جانی قربانیاں دیں تو یہ اُنکی اپنے کاز یعنی ”جمہوریت کی بحالی“ سے غداری ہو گی، اس سمت بڑھنے سے قبل ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین مفاہمت کا مظاہرہ کریں، فاتح و مفتوح دونوں کا تعلق ایک ہی قوم سے ہے، مغلوب ہو جانے والوں سے بھائیوں کا سا سلوک کیا جائے مخاصمت اور دشمنیوں کو بھول کر ملک کی تعمیر نو کے کام میں جُت جائیں۔ قذافی نے اپنے دور میں تقریباً سب ادارے تباہ کر دئیے تھے خصوصاً سیاست اور سیاسی پارٹیوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہنے دیا، موصوف کا نعرہ تھا ”سیاسی جماعت بنانے والا غدار ہے“ حقیقی جمہوریت کا قیام ملک کے تمام مسائل حل کر دے گا، لیبیا کے پاس سرمائے اور وسائل کی کمی نہیں لیکن اپنے وسائل اور سرمائے کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس وغیرہ سے بچانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ اورنیٹو کی طرف سے باغیوں کی حمایت کے پس پردہ لیبیا کا تیل بھی ایک بہت بڑا محرک ہے ۔ یہ بنیا صفت سامراجی ممالک وہ کام ہی نہیں کرتے‘ جس میں انہیں ”مال“ نہ نظر آئے!
مزید 250 امریکی پاکستان بدر
پاکستان نے 250 امریکی اہلکاروں کو 40 روز میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اہلکار اسلام آباد میں مقیم ہیں جو دوسرے شہروں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔
ڈیڑھ دو ماہ قبل پاکستان نے پاک فوج کو ٹریننگ دینے والے 96 امریکیوں کو ملک بدر کیا تھا جس پر امریکہ نے شدید احتجاج اور اشتعال کا مظاہرہ کرتے ہوئے 80کروڑ ڈالر کی فوجی امداد بند کر دی تھی۔ ان ٹرینرز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ٹریننگ کی آڑ میں پاکستان دشمن کارروائیوں میں ملوث تھے۔ بعد ازاں امریکہ نے سیاسی و عسکری قیادت پر دباﺅ ڈال کر 87 ٹرینرز کی دوبارہ پاکستان میں تعیناتی کی راہ ہموار کر لی تھی۔ اب ان 250 اہلکاروں کو ملک سے نکالا جا رہا ہے تو اس پر حکومت کسی قسم کا کمپرومائز نہ کرے۔ عالمی پروٹوکول کے مطابق امریکہ کو جتنا سفارتی عملہ پاکستان میں تعینات کرنے کی اجازت ہے اس سے ایک بھی زائد کو ویزہ جاری نہیں کیا جانا چاہیے۔ پروٹوکول کےمطابق تو امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے کی تعداد امریکہ کے پاکستان میں تعینات عملے کے برابر ہونی چاہیے لیکن پاکستان میں نہ صرف امریکہ سفارتی عملہ کی تعداد پاکستان کے امریکہ میں تعینات عملے سے کہیں زیادہ ہے بلکہ بلیک واٹر جیسے دہشت گردبھی پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس سفارتکار کے بھیس میں پاکستان میں دہشت گردی کر اتا رہا۔ پاکستان کو پُرامن بنانے کےلئے ضروری ہے کہ امریکہ سمیت ہر ملک کے سفارت کاروں کی تعداد اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے جس کے بارے میں شکوک و شبہات ہوں ان کو تیس چالیس روز کی مہلت دینے کے بجائے فوری طور پر ملک سے نکال دیا جائے۔
ایل پی جی پر لیوی کا نفاذ
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایل پی جی پالیسی 2011ءمنظور کرلی اور ایل پی جی کی مقامی پیداوار پر گیس ڈویلپمنٹ لیوی عائد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ 10 سے 12 روپے فی کلو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد کردی گئی۔ نامساعد ملکی حالات کے پیش نظر کاروبار ٹھپ پڑے ہیں‘ دوسری طرف توانائی کے بحران نے صنعت و حرفت کے پہیہ کو جام کر رکھا ہے‘ ان حالات میں غریب آدمی کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑ چکا ہے‘ اب ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر آئیگی کیونکہ رکشاﺅں کے کرائے بڑھیں گے‘ عام آدمی کی جیب پر اس کا اثر پڑےگا‘ جس سے یقینی طور پر عوام کے دلوں میں حکومت کیخلاف نفرت بڑھے گی۔ حکومت کی کارکردگی پہلے ہی انتہائی ناگفتہ بہ ہے‘ عوام پہلے ہی اسکی پالیسیوں کے باعث سراپا احتجاج ہیں۔ حکمران اپنے اللوں تللوں پر قابو پاکر کاروبار حکومت کو چلائیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں غیرملکی قرضوں میں 20 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے‘ صاف ظاہر ہے‘ اس کو واپس کرنے کیلئے عوام پر ہی بوجھ ڈالا جائیگا۔ کرنسی نوٹ چھاپ کر مزید مہنگائی کو پروان چڑھایا جائیگا۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ایسے حربوں سے باز رہے جس کے باعث عام آدمی زندہ درگور ہو اور عوام کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے نہ پڑ جائیں۔