شوکت خانم ہسپتال....خدا کرے یونہی دیئے سے دیا جلتا رہے

25 اگست 2011
مکرمی! بدقسمتی سے مجھے کینسر کا مرض لاحق ہے اور شوکت خانم ہسپتال میں زیر علاج ہوں۔ مجھے یہاں آئے ہوئے تین ماہ ہو چکے ہیں اور یہ لوگ مجھے مفت علاج فراہم کر رہے ہیں۔ آپ ان ہی ڈاکٹروں، سٹاف کی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے جو میں آپ سب میں موجود ہوں اور میرے اندر زندہ رہنے کی امید پھر سے جاگ اٹھی ہے۔ ورنہ کینسر جیسے مرض کا نام سن کر ہی لوگ حوصلہ ہار جاتے ہیں۔ میری یہ دعا ہے کہ یہ ہسپتال یونہی چلتا رہے کیونکہ یہ ہسپتال ہم جیسے زندگی سے مایوس لوگوں کے لئے امید کی ایک کرن ہے۔ محمد اویس، شہر سرگودھا)