چین: ایشین گیمز میں روبوٹس کا راج

 چین میں ہفتے سے ایشین گیمز کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 12 ہزار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں عہدے دار، تیکنیکی معاونین ، صحافی اور کھیلوں کے شائقین ہانگزو پہنچ گئے ہیں۔ایشین گیمز میں شریک مہمانوں کے استقبال اور خدمات کے لیے ہانگزو میں بڑی تعداد میں روبوٹس بھی موجود ہیں۔ کھیلوں کے موقع پر مختلف اقسام کے روبوٹس کی بات ہی کچھ اور ہے جو لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ہانگزو مشرقی چین کا ایک گنجان آباد ساحلی شہر اور صوبہ ژیجیانگ کا صدر مقام ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں آباد یہ شہر اپنے منفرد فن تعمیر، باغات اور دلکش قدرتی مناظر کی وجہ سے سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔ہانگزو کی ایک اور وجۂ شہرت اس کی ٹیک انڈسٹری ہے جس نے ایشیائی کھیلوں کے انعقاد کو اپنی ہنرمندی ، مہارت اور انفرادیت کے اظہار کا ایک موقع سمجھتے ہوئے غیرملکی مہمانوں کی خدمات، تحفظ اور سہولیات کے لیے روبوٹس اور مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی مختلف نوعیت کی خودکار مشینیں تیار کی ہیں جو ان دنوں شہر میں اکثر مقامات پر دکھائی دے رہی ہیں۔مثال کے طور پر کھلاڑیوں کے لیے بنائی گئی بستی میں آپ کو ایک خودکار روبوٹک مشین گھومتی ہوئی نظر آئے گی۔ اس مشین کا درجۂ حرارت انسانی جسم جیسا ہے اور وہ انسان ہی کی طرح سانس لے رہی ہوتی ہے۔اگر آپ اس کے قریب کھڑے ہو کر آنکھیں بند کر لیں تو یوں محسوس ہو گا کہ کوئی شخص آپ کے قریب موجود ہے۔

اس روبوٹک مشین کا مقصد لوگوں کو دھوکہ دینا نہیں بلکہ مچھروں کو اپنے جال میں پھنسانا ہے۔ جیسے ہی کوئی مچھر خون چوسنے کی خواہش کے ساتھ اس کے قریب آتا ہے، مشین اسے اپنی جانب کھینچ کر ہلاک کر دیتی ہے۔یہاں آپ کو روبوٹک کتے بھی نظر آئیں گے۔ جن کا کام کھلاڑیوں اور غیر ملکی مہمانوں کو تفریخ فراہم کرنا ہے۔ وہ اچھل کود سکتے ہیں۔ چھلانگیں لگا سکتے ہیں۔فرش پر قلابازیاں کھا سکتے ہیں۔ ناچ سکتے ہیں ، بلکہ پیلے رنگ کے ایسے کتے بھی موجود ہیں جو پیانو بجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب کا مقصد غالباً مہمانوں کو لبھانا اور ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانا ہے۔

آپ کو یہاں ٹینس کی میزیں نظر آئیں گی۔ اگر آپ اکیلے ہیں اور دل ٹینس کھیلنے کو چاہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔آپ کے ساتھ کھیلنے کے لیے پانگ بوٹ موجود ہے۔ یہ بھی ایک روبوٹ ہے۔ وہ اتنا پھرتیلا اور ماہر ہے کہ اس سے جیتنا آسان نہیں۔ایشیائی کھیلوں کے لیے بیس بال اور سافٹ بال کے میدان ہانگزو کے قریب واقع ایک اور شہر شاؤکسنگ میں بنائے گئے ہیں۔ وہاں لے جانے کے لیے آپ کو منی بسیں تیار ملیں گی۔ مگر ان بسوں میں آپ کو کوئی ڈرائیور نظر نہیں آئے گا۔ لیکن گھبرانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ مکمل طور پر خودکار اور کمپیوٹرائزڈ ہیں اور آپ کو بحفاظت منزل مقصود پر پہنچا دیں گی۔آئیے اب ہانگزو کے میڈیا سینٹر چلتے ہیں۔ یہ ایک بڑا میڈیا سینٹر ہے جہاں میڈیا کی ضروریات کے ساتھ ساتھ بینک کا کاؤنٹر بھی موجود ہے۔ یہاں آپ کا خیرمقدم ایک مسکراتا ہوا چہرہ کرے گا۔ لیکن یہ بھی ایک روبوٹ ہے جس کا انسانی چہرہ پلاسٹک کا اور دھڑ میٹل کا ہے۔ وہ لمحہ بھر میں آپ کو تمام مطلوبہ سروسز مہیا کر دے گا۔ایشیائی کھیلوں کا مرکز اگرچہ ہانگزو ہے، لیکن کچھ کھیلوں کے مقابلوں کے لیے قریبی شہروں میں بھی انتظامات کیے گئے ہیں اور انہیں آپس میں مربوط کر دیا گیا ہے۔ہانگزو اور کھیلوں کی میزبانی کرنے والے دوسرے شہروں میں آپ کو اکثر جگہوں پر تین قسم کے انسانی روبوٹ دکھائی دیں گے۔ان کے نام کانگ کانگ، لیان لیان اور چن چن ہیں۔ یہ مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں ایشیائی کھیلوں کی میزبانی میں چین کی نمائندگی کا فریضہ سونپا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایشیائی کھیلوں کے مقامات اور کھلاڑیوں کی بستیوں کی تعمیرات کے لیے بھی زیادہ تر روبوٹس سے کام لیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کرنے والے روبوٹس اپنے کام میں بہت مہارت رکھتے ہیں اور وہ تھکتے بھی نہیں ہیں۔

ہانگزو ایک کروڑ 20 لاکھ آبادی کا شہر ہے۔ اس شہر کی وجہ شہرت یہاں کی ٹیک کمپنیاں ہیں۔ صنعتی اور دیگر مقاصد کے استعمال میں آنے والے زیادہ تر روبوٹس اسی شہر میں بنائے جاتے ہیں۔چین کا دعوی ٰ ہے کہ اس کے روبوٹس کارگردگی میں امریکہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کے روبوٹس سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔روبوٹک کمپنیاں ایشیائی کھیلوں کے مقابلوں کو اپنے جدید روبوٹس اور دوسری مصنوعات کو متعارف کرانے کےایک موقع کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔جس کے لیے وہاں ایک بزنس پارک بنایا گیا ہے۔بزنس پارک میں ایک روبوٹک کمپنی ڈیپ نے تعمیرات کے شعبے میں کام کرنے والے اپنے جدید روبوٹس کی کارکردگی کی نمائش کی۔ایک اور کمپنی نے کتے کی شکل کا اپنا ایک روبوٹ پیش کیا۔ جو اس قدر حقیقی ہے کہ ایک اصلی کتے نے رک کر اسے دیکھا اور تجسس سے سونگھا۔اس پارک میں گھریلو استعمال کے روبوٹ اور مشینیں بھی رکھی گئیں ہیں۔ جن میں کھانا پکانے والی مشینیں بھی شامل ہیں۔ وہاں موجود ایک شخص نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہ ان لوگوں سے اچھا کھانا بنا سکتی ہے جنہیں کھانا پکانا نہیں آتا۔روبوٹک کمپنی ڈیپ کے ایک عہدے دار چیان شیاؤیو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدشات بے بنیاد ہیں کہ روبوٹ انسانوں سے ان کا روزگار چھین لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ روبوٹ تو ایک مشین ہے۔ اس کا کام انسان کی مدد کرنا ہے۔

ای پیپر دی نیشن