نواز شریف کا نظریہ کرپشن، سابق وزیر اعظم، اور زرداری جیسے لوگوں کا اقتدار میں آنا بدقسمتی ہے: عمران

24 نومبر 2017 (21:53)

 چیئرمین تحریک انصاف عمران نے حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دوبڑے مسائل کرپشن اور بیروزگاری ہیں، نوجوان نوکریوں کیلئے دھکے کھارہے ہیں جہاں جاتا ہوں نوجوان نوکریاں ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ دنیا آگے چلی ہمارا ملک پیچھے رہ گیا۔ شریف خاندان کی ایک فیکٹری تھی، اقتدار میں آنے کے بعد 30 ہوگئیں۔ کرپشن کا مطلب اقتدار میں آکر پیسہ بنانا ہے۔ ملک کا پہلا مسئلہ بیروزگاری دوسرا مہنگائی ہے۔ مغرب میں کوئی بھی اقتدار میں رہ کر ذاتی فائدہ اٹھائے تو جیل ہوتی ہے۔ آپ کا ٹیکس کا پیسہ ان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ اقتدار میں آکر پیسہ بنانا اور قرضے معاف کرانا آسان ہوتا ہے۔ ہسپتالوں اور سکولوں کا نظام تباہ حالی کا شکار ہے۔ قرض اتارنے کیلئے عوام پر ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ وزیراعظم خود چوری کرے تو وزراءکو نہیں روک سکتا۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، پینے کا پانی نہیں ہے، سالانہ 40 ہزار ارب روپے کرپشن سے چوری ہوتے ہیں، ایک ہزار ارب روپے چوری ہوکر باہر چلے جاتے ہیں، یہ منی لانڈرنگ ہے۔ نواز شریف کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا، نواز شریف کو 300 ارب روپے بیرون ملک منتقل کرنے پر نکالا۔ پیسہ باہر چلا جاتا ہے، یہاں سے بے روزگاری بڑھ جاتی ہے۔ جب ڈالر کی کمی ہوتی ہے ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں، جب قرض لیتے ہیں تو ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے، قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کیلئے عوام پر ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے مستقبل بے گھناﺅنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب برصغیر میں پاکستان سب سے آگے تھا، جب وزیراعظم پیسہ چوری کرتا ہے تو نیچے تک سارا نظام کرپٹ ہوجاتا ہے۔ جب نواز شریف نے کہا کہ ”نواز شریف ایک نظریئے کا نام ہے“ تو وہ نظریہ، نظریہ¿ کرپشن تھا۔ نواز شریف کا نظریہ کرپشن ہے۔ ہمیں کرپشن مافیا کا سامنا کرنے کیلئے تیاری کرنی ہے، ایک وزیر کا اقامہ نکل آیا ہے خواجہ آصف 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر نوکری کررہے ہیں۔ ایک ہفتے میں خواجہ آصف سے متعلق اورچیزیں بھی نکال کر دکھائیں گے۔ اسحاق ڈار پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے، ان کی بیرون ملک اربوں ڈالر کی جائیدادیں ہیں۔ اسحاق ڈار کے بچے اربوں پتی ہیں۔ وزیراعظم کی جرا¿ت نہیں کہ اسحاق ڈار کو نکالے۔ اسحاق ڈار نواز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کرتے تھے۔ اسحاق ڈار 90 کی دہائی میں سوا ارب روپے باہر لے گئے۔ اسحاق ڈار کو ساری کرپشن کا پتہ ہے۔ اسحاق ڈار کو بھی پتہ ہے نواز شریف کے پیسے کہاں پڑے ہیں۔ بدقسمتی سے نواز شریف اور زرداری جیسے لوگ اقتدار میں آئے۔ ادارے مضبوط ہوں تو ملک ترقی کرتا ہے۔ یورپ میں ادارے مضبوط ہیں اس لئے وہاں خوشحالی ہے۔ ادارے مضبوط نہ ہوں تو ملک ترقی نہیں کرتا۔ اداروں میں کرپٹ لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہم نے خیبر پی کے میں ایک ارب درخت لگائے، نئے پاکستان میں ریاست کمزور طبقے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ نئے پاکستان میں بے روزگاری کیلئے پورا پلان دیں گے۔ چھوٹے کاروباری طبقے کو قرض دیں گے۔ سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اقتدار میں آکر سکولوں میں تعلیمی نظام بہتر کریں گے۔ خیبر پی کے میں ڈیڑھ لاکھ بچے پرائیویٹ سے سرکاری سکولوں میں آگئے ہیں۔ ہم ہر کمزور طبقے کی ذمہ داری لیں گے، غریب گھرانوں کے بچوں پر پوری توجہ دیں گے۔