پشاور:حیات آباد میں خودکش حملہ، ایڈیشنل آئی جی اشرف نور شہید

24 نومبر 2017 (11:23)

پشاور کے علاقے حیات آباد میں زرغونی مسجد کے قریب خودکش حملے میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر محمداشرف نور شہید اور 6 اہلکار زخمی ہوگئے.زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیاجن میں سے ایک اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔صدر ممنون حسین ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ،نوازشریف ، عمران خان ،آصف علی زرداری ،سراج الحق ، مولانا فضل الرحمن ،اسفندیار ولی خان ،آفتاب احمد خان شیر پاﺅ،وزیر داخلہ احسن اقبال ،گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیر اعلیٰ پرویزخٹک ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری اور دیگر سیاسی رہنماﺅں نے پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی اور شہدا ءکے لواحقین سے اظہارتعزیت کیا ہے،انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔سی سی پی او پشاور طاہر خان کے مطابق جمعہ کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں صبح 9 بجے ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر اشرف نور اپنے گھر سے دفتر جارہے تھے کہ راستے میں زرغونی مسجد کے سامنے ان کی گاڑی کو بم سے اڑادیا گیا۔ حملے میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر محمد اشرف نور شہید اور ایک محافظ شہید جبکہ 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔سی سی پی او پشاور طاہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسے خودکش حملہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے اپنی موٹرسائیکل ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کی گاڑی سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور مکمل طور پر تباہ ہوگئی ۔سی سی پی او طاہر خان کا کہنا ہے کہ اشرف نور کے لئے کوئی مخصوص تھریٹ نہیں تھا۔دھماکے کی زد میں آنے والی پولیس کی دوسری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس، ریسکیو اہلکار اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تھی۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتیں لرز اٹھیں اورعمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔پولیس کے مطابق شہید ایڈیشنل آئی جی محمد اشرف نور کی اور محافظ کیمیت جبکہ زخمی ہونےوالے تمام افراد کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کرجائے وقوع سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ شہید ایڈیشنل آئی جی کے زخمی ڈرائیور ذیشان نے بتایا کہ ہم دفتر جارہے تھے کہ راستے میں کھڑی موٹر سائیکل میں دھماکا ہوا، گاڑی کی اگلی نشست پر اے آئی جی صاحب کا محافظ اور پچھلی نشست پر وہ خود بیٹھے تھے ۔دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے،بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق حملے میں 15سے 20کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔شہید ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر محمد اشرف نور کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا، انہوں نے ایم ایس سی ایگرکلچر کی ڈگری حاصل کی اور 1989 میں سول سروسز جوائن کی۔شہید محمد اشرف نور کی پہلی تعیناتی کہوٹہ میں بطور ایس ڈی پی او ہوئی اور وہ ایس پی ٹریفک، ایس پی ہیڈ کوارٹر ایبٹ آباد، جی ڈی پی او چترال اور ڈی پی او کوہستان کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچی جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کردیا، دھماکے سے ایک بس سمیت کئی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا.