سی پیک میں نظرانداز کرنے پر صوبائی حکومت کی رٹ پر وفاقی وزارت منصوبہ بندی سےجواب طلب

24 نومبر 2017

پشاور(بیورورپورٹ)پشاور ہائی کورٹ نے پاک چین اقتصادی راہداری میں صوبہ کو نظر انداز کرنے پرسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی وفاقی حکومت کے خلاف دائر رٹ درخواست پر وفاقی وزارت منصوبہ بندی سے جواب طلب کرلیا ہے گزشتہ روز کیس کی سماعت عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس سید افسر شاہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے کی اپنی پٹیشن میںسپیکرکا کہنا تھا کہ سی پیک پر اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کئے گئے جس کے تحت چین تک سڑکوں اور ریلوے کا ایک جال بچھایا جائے گا جبکہ گوادر پر ایک جدید سی پورٹ بھی تعمیر کیا جائے گا درخواست گزار نے 28 مئی 2015 کوسابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سی پیک کے مغربی روٹ کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے فریقین سے احکامات طلب کرنے کی گزارش کی درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ فریقین کو یہ حکم دے کہ وہ اس حوالہ سے عزم کا اظہار کریں کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر بھی اسی رفتار سے کام کیا جائے جس طرح مشرقی روٹ پر کیا جارہا ہے اور دونوں روٹس کے فنڈز بھی ایک جیسے ہی ہوںدرخواست گزار نے مزید کہا کہ عدالت فریقین کو سی پیک کے تحت قائم کئے جانے والے 8 صنعتی پارکوں بٹگرام، مانسہرہ، موٹروے ایم 1 پر کیپٹن کرنل شیر خان انٹرچینج، مالا کنڈ، چکدرہ انٹر چینج، سوات، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کیلئے فنڈز جاری کرنے کی بھی ہدایات دے جبکہ فریقین بجلی، گیس، ٹیلیفون لائنز، فائبر آپٹکس، ریلوے لائنز اور دیگر سروسز کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیںواضح رہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ مغربی روٹ اقتصادی راہداری کا مرکزی روٹ ہوگا اور اسے پہلے مکمل کیا جائے گا، تاہم جب 16-2015 کے بجٹ کا اعلان کیا گیا اور جو نقشہ چھاپے گئے، ان میں مغربی روٹ کو شامل نہیں کیا گیا اور اس کے بجائے پرانی نیشنل ہائی وے کو ہی مرمت کرکے نقشہ میں دکھایا گیا۔