آئی 17 کو صنعتی علاقہ قرار دیا جائے، چیئرمین اسلام آباد چیمبر آف کامرس

24 نومبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عامر وحید شیخ نے کہا ہے کہ معیشت گر رہی ہے۔ 300ارب روپے کے ری فنڈز باقی ہیں۔ ایف بی آر کاروبار و صنعت کی مدد کی بجائے ان کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنا ہوا ہے ۔ کپاس کا نیا بیج پیدا نہ کرنے کی وجہ سے روئی کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ چیمبر میں آر اینڈ ڈی کا شعبہ قائم کردیا ہے۔ اور اس میں سی پیک سمیت مختلف موضوعات پر ریسرچ شروع کردی ہے۔ عامر وحید شیخ نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت تنزل کا شکار ہے۔ اسکی وجہ ملکی حالات، سیاسی عدم استحکام ہوسکتی ہے۔سٹاک مارکیٹ جو ایک وقت میں 55 ہزار پوائنٹس پر تھی اب گر کر 40 ہزار ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 700ارب روپیہ سٹاک مارکیٹ سے نکل گیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ بھی جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے ہیں کہ درآمدات کے باعث معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ درآمدات میں زیادہ تر توانائی کی مشینیں آئی ہیں جبکہ نئی صنعتیں نہیں لگ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ازحد زیادتی ہے کہ سی پیک کے تحت اسلام آباد میں کوئی اقتصادی زون نہیں بنایا جارہا۔ چیئرمین سی ڈی اے سے کہا ہے کہ آئی 17 کو صنعتی علاقہ قرار دیدیا جائے۔ اس میں سرمایہ کاری خود نجی شعبے کرتے رہیں گے اور حکومت پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ چیئرمین نے اس پر غور کا وعدہ کر رکھا ہے۔ چکری کے پاس بہت سی زمین ہے وہاں اسلام آباد چیمبر، راولپنڈی چیمبر، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے درمیان تعاون سے اقتصادی زون بنایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں خطہ پوٹھوہار کے تمام چیمبرز اور کاروباری تنظیموں کو آپس میں اتفاق و اتحاد سے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی جے سی سی میں اگرچہ نجی شعبہ کو بلایا گیا تھا تاہم ان کی سنی نہیں جاتی۔ شرکت محض علامتی بن کر رہ جاتی ہے۔ عامر وحید شیخ نے کہا کہ درآمدات تو بڑھیں گی جب لوکل مینوفیکچرنگ کی جانب توجہ نہیں ہے۔ اس وقت بھی ادویات کا سارا خام مال باہر سے آرہا ہے۔ حکومت خام مال کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتی۔ چند ترغیبات اور اچھی پالیسیاں مقامی طور پر بھی خام مال تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تیل کی درآمدات میں کمی کیلئے مقامی سرمایہ کاری کو بڑھانا پڑے گا۔ ملک کے اندر کاروبار کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ دنیا میں بجلی 9-7سینٹ یونٹ میں مل رہی ہے ۔ پاکستان میں یہ 15سے 19سینٹ فی یونٹ ہے ۔ ٹیکسز اس کے علاوہ ہیں۔ ایف بی آر 300 ارب کے ری فنڈ دبا کر بیٹھا ہے۔ اس طرح نہ صنعت چل سکتی ہے نہ برآمد اور نہ کاروبار ترقی کرسکتا ہے۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے ایک ایسے وقت میں چینی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جب چینی کا ریٹ 5سو سے ساڑھے پانچ سو ڈالر فی ٹن تھا۔ آج چینی برآمد ہورہی ہے اور حکومت کو ری بیٹ بھی دینا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ چینی کی عالمی قیمت 3سے ساڑھے تین سو ڈالر فی ٹن تک گر گئی۔ ایسی پالیسیوں سے بھلا کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت اجازت دی جاتی تو حکومت کو سبسڈی بھی نہ دینا پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کو مراعات دی جائیں۔ ٹیکسٹائل کو جو مراعات دی گئی ہیں۔ اتنی ہی اگر آئی ٹی کو دی جائیں تو ملک کی برآمدات میں مختصر سے عرصہ میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ انڈیا سو ارب ڈالر آئی ٹی سے کما رہا ہے اور ہم ایک ارب ڈالر پر جدوجہد کررہے ہیں۔ حکومت جاگے اور اس سیکٹر پر توجہ دے۔ ایف بی آر مشکلات بڑھا رہا ہے۔ انکم ٹیکس کا فارم اردو میں ایک صفحہ کا ہونا چاہیے۔ بینکنگ ٹرانزیکشن پر 0.4 فیصد کا ودھ ہولڈنگ ٹیکس تباہ کن ہے۔ اس سے بینکنگ سیکٹر بیٹھ رہا ہے۔ اس وقت حکومتی اکاؤنٹس کے باعث بینک چل رہے ہیں ورنہ نجی شعبہ بینکنگ سیکٹر سے دور چلا گیا ہے۔ لوگ منی چینجرز کے پاس کھاتے لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اور دوسرے موضوعات پر ریسرچ کررہے ہیں جو ملک معاشی اداروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔