مقدمات کے جلد فیصلوں سے عام آدمی کی زندگی پر بہتر اثر پڑے گا: جسٹس منصور

24 نومبر 2017

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ پنجاب کی عدلیہ پاکستانی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ عدلیہ میں تمام اصلاحات کا مقصد مقدما ت کی شیلف لائف کم کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار لندن میں استقبالیہ سے خطاب میں کیا جس کا انعقاد ورلڈ کانگرس آف اووسیز پاکستانیز نے کیا تھا۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ مقدمات کے جلد فیصلوں سے عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء کو سائلین و وکلاء کی سہولت کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں سہولت سنٹرز، ہیلپ لائن 1134 اور صوبہ بھر کے 36 اضلاع میں مصالحتی مراکزکے قیام اور لاہور ہائی کورٹ میں انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم کے نفاذ کے بارے میں بھی بتایا۔ چیف جسٹس نے لندن دورہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس دورہ سے پنجاب اور برطانوی عدلیہ کے درمیان بہترین روابط کو فروغ دیا جائے گا اور برطانوی عدلیہ کے تجربات اور اصلاحات سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ اووسیز پاکستانیوں کیلئے اقدامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں اووسیز پاکستانیوں کے مقدمات کی سماعت کیلئے علیحدہ ٹرائل کورٹس تشکیل دیئے گئے ہیںجہاں چھ ماہ کے قلیل عرصہ میں معاملات کو نمٹایا جائے گا۔ اووسیز پاکستانیوں کے مقدمات کا ڈیٹا لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس کی قیادت میں ہائی کورٹ کے وفد نے رائل کورٹس آف جسٹس کا دورہ کیا۔ ججز اور عملے کی ٹریننگ، فاصلاتی تربیتی کورسز اور موثر کارکردگی میکینزم مرتب کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ جج کرسٹا اور مس شرڈین نے برطانیہ میں جوڈیشل ٹریننگ فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مذکورہ ججز کو سونیئر بھی دیئے۔