بھارتی فوج نے 3 نوجوانوں کو غیر ملکیوں کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا زبردست مظاہرے ہڑتال

24 نومبر 2017

سرینگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے 3نوجوانوں کو سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ قابض فورسز کا کپواڑہ کے جنگلات اور متعدد دیہات کا محاصرہ، گھر گھر تلاشی کے دوران لوگوں پر تشدد کیا گیا۔ وادی کے کئی علاقوں میں ہڑتال، کاروباری مراکز بند رہے۔اس دوران کرالہ گنڈ ہندواڑہ کے نصف درجن علاقوں اننون، حاجن، گنڈ کمال، ڈوگر، رت کھنڈی،گنڈ چوبوترا کا دو روز سے کریک ڈائو ن جاری ہے جس کے دوران فوج اور پولیس نے گھر گھر تلاشی کارروائیا ں کی ہیں۔ مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ فوج نے ٹریکٹر ڈرائیور شہزاد احمد لون کو گرفتار کیا جس کاا بھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ دریں اثناء سرحدی ضلع کپواڑہ کے ماگام میں جھڑپوں میں شہید ہونے والے تین نوجوانوں کو بارہمولہ کے مضافاتی گائوں گانٹہ مولہ میں تاریکی میں سپرد خاک کیا گیا۔ ادھر ترال میں مقامی عادل رشید چوپان کی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے خلاف مسلسل تیسرے دن بھی مکمل ہڑتال رہی۔دختران ملت نے کہاہے کہ اسرائیلی صہونیوں کے ساتھ کشمیریوں کا کسی بھی قسم کا تعلق یا رابطہ اسلام اور امت اور تحریک کشمیر سے غداری کے مترادف ہے۔ پاکستانی عدالت کی طرف سے حافظ سعید کی رہائی کے حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابل ستائش قدم ہے۔ کٹھ پتلی حکومت نے بھارتی فورسز پر پتھراو کے الزام میں گرفتار نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے اس فیصلے سے 4ہزار6سو کے قر یب نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا جن پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس فیصلے کا اعلان ایک ٹوئٹ کے ذریعے کیا ہے۔