پنجاب اسمبلی :فوج پر تنقید سے مورال کم ہوتا ہے محمود الرشید ارکان کا شہداکو خراج تحسین

24 نومبر 2017

لاہور (خصوصی رپورٹر+خصوصی نامہ نگار+ سپورٹس رپورٹر+کلچرل رپورٹر) قائد حزب اختلاف پنجاب محمودالرشید نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ میجر اسحاق شہید قوم کے بہادر سپوت ہیں۔ انہوں نے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے جان قربان کر دی۔ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔ فوج پر تنقید اور الزامات لگانے سے فوج کا مورال کم ہوتا ہے ایسے کام نہ کئے جائیں جن سے فوج کی عزت اور وقار کم ہو۔ فوج اندرونی اور بیرونی محاذ پر خون دے رہی ہے۔ لوگوں کو پاک فوج پر الزامات سے گریز کرنا چاہئے۔ رانا محمد ارشد نے کہا کہ میاں نواز شریف کی قیادت میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا۔ اب آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ یہ ایوان کیپٹن جنید اور میجر اسحاق جیسے شہیدوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی فرزانہ نذیر نے کہا کہ ہمارے فوجی جوان شہید ہوتے ہیں یا غازی‘ قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ بھارتی فوج سرحد پر مسلسل فائرنگ کر رہی ہے جو قابل مذمت ہے۔ قبل ازیں میجر اسحاق شہید اور سرحد پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وقفہ سوالات میں رکن اسمبلی حاجی ملک عمر فاروق کے اس سوال کہ ’’ضلع راولپنڈی تحصیل ٹیکسلا میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیر انتظام ورکرز کالونی کا منصوبہ کب شروع ہو گا اور کب مکمل ہو گا‘‘ کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے محنت میاں نوید علی نے کہا کہ اس منصوبے کیلئے بہت سے سرکاری محکموں سے این او سی درکار ہیں اور سرکاری محکموں کا جو حال ہے وہ سب جانتے ہیں وہ اتنی جلدی جواب نہیں دیتے اس کے جواب میں سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ ’’آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ آپ ایوان میں یہ بیان دے رہے ہیں‘‘ اس پر ارکان اسمبلی نے زبردست قہقہہ لگایا۔ بعدازاں پارلیمانی سیکرٹری میاں نوید علی نے رکن اسمبلی محمد ارشد ملک کی طرف سے ضلع ساہیوال محکمہ محنت کے ورکرز کی میرج اور ڈیتھ گرانٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرج گرانٹ کی رقم ایک لاکھ اور ڈیڑھ گرانٹ کی رقم 5 لاکھ روپے دی جا رہی ہے جبکہ پہلے میرج گرانٹ کی رقم 70 ہزار روپے تھی۔ پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی فائزہ احمد ملک کے اس سوال کہ ’’بنک آف پنجاب کے صدر کیلئے کیا میرٹ ہے، اب جو صدر ہیں ان کا کیا نام ہے اور ان کی تنخواہ کتنی ہے‘‘ پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا بابر حسین نے کہا کہ اس پوسٹ پر جو مطلوبہ کوالیفکیشن چاہئے اس پر موجودہ صدر پورا اترتے ہیں ان کا نام نعیم الدین شیخ ہے جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے ان کی اصلاح کی کہ وہ شیخ نہیں ہیں نعیم الدین ہیں۔ رانا بابر نے مزید کہا کہ صدر بنک آف پنجاب کی تنخواہ 56 لاکھ ماہانہ ہے۔ فائزہ ملک نے کہا کہ بتایا جائے کہ پنجاب میں کس سرکاری ملازم کی تنخواہ 56 لاکھ روپے ہے۔ اس کے جواب میں رانا بابر نے کہا کہ صدر بنک آف پنجاب کو جو تنخواہ دی جا رہی ہے وہ مارکیٹ کے مطابق ہے۔ وہ اس کے اہل ہیں اسی لئے بنک آف پنجاب منافع کما رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ نے شہید میجر محمد اسحاق شہید کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرنے کی قرارداد، ڈاکٹر سید وسیم اختر نے پنجاب کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے ہسپتالوں میں بچوں کے برن سنٹرکے قیام کے حوالے سے تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی۔ نبیلہ حاکم علی نے بہاولنگر میں 12سالہ طالبہ کی پھندہ لگی نعش کیخلاف اسمبلی میں توجہ دلائو نوٹس، سعدیہ سہیل رانا نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی، کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر غریب عوام کو پس پشت ڈالتے ہوئے تعلیم اور صاف پانی کے لئے مختص فنڈز سے 89 کروڑ 31 لاکھ روپے اپنے ارکان اسمبلی کے حلقوں پر نچھاور کر دیئے۔ کورٹ فیس کے ضمنی سوال پر پارلیمانی سیکرٹری رانا بابر کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ آنے پر رکن اسمبلی میاں رفیق کی درخواست پر سپیکر اسمبلی رانا محمد اقبال نے معاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ اس سے قبل ایوان میں اس وقت قہقہے لگنا شروع ہو گئے جب رکن اسمبلی ملک ارشد کی جانب سے 5 مئی کو مزدوروں کا عالمی دن قرار دیا گیا تاہم سیپکر اور دیگر ارکان کی نشاندہی پر انہوں نے فوری اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی تصحیح کر لی۔ وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن بینچز کے احسن ریاض فتیانہ ایوان میں آئے تو حکومتی جماعت کے رکن اسمبلی میاں وحید گل فوری طور پر اپنی نشست سے اٹھ کر ان کے پاس آئے اور انہیں منانے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ آج اجلاس کی تمام سرکاری کارروائی مکمل ہونے دیں کورم کی نشاندہی نہ کریں جس پر احسن ریاض فتیانہ انہیں سمجھاتے رہے کہ آپ ارکان پورے کریں کورم کی نشاندہی نہیں کرینگے۔ وقفہ سوالات کا ایک گھنٹہ مکمل ہونے پر سپیکر رانا محمد اقبال کی جانب سے اعلان کیا گیا تو اپوزیشن جماعت کی رکن اسمبلی نبیلہ حاکم علی کی جانب سے ساڑھے چھ بجے کورم کی نشاندہی کر دی گئی جس پر سپیکر کی جانب سے گنتی کے لیے کہا گیا جبکہ وزیر قانون رانا ثناء اﷲ نے وحید گل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا ایسا نہیں ہوگا اب ایسا کیوں ہوا جس پر احسن ریاض فتیانہ نے کورم کی نشاندہی نہیں کی بلکہ نبیلہ حاکم علی نے اس مرتبہ ایسا کیا ہے۔ پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کے بعد اراکین کی گنتی دوبار کی گئی کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر اسمبلی رانا محمد اقبال کی جانب سے اجلاس جمعہ کی صبح 9 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔