قائمہ کمیٹی خزانہ رشید گوڈیل اور قیصر احمد شیخ میں تلخی‘ متحدہ رکن کا واک آئوٹ

24 نومبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ایف بی آر کے چیئرمین طارق پاشا نے بتایا ہے کہ یو اے ای کو خط لکھا ہے جس میں ان 100 پاکستانیوں کے بارے میں معلومات مانگی ہیں جنہوں نے دوبئی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے یہ بات قومی اسمبلی کی خزانہ مجلس قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کہی۔ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ چیئرمین ایف بی آر نے مجلس قائمہ کی سب کمیٹی جو دوبئی میں جائیدادوں سرمایہ کاری کی تحقیقات کررہی ہے کے اجلاس میں بتایا کہ ایف بی آر کو 100 پاکستانیوں کے ناموں پر مشتمل فہرست ایف آئی اے نے بھیجی ہے۔ جنہوں نے دوبئی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ اس فہرست کو یو اے ای بھیجا گیا ہے تاکہ ان پاکستانیوں کے متعلق مزید تفصیلات مل سکیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی خطوط لکھے گئے تاہم دوبئی حکام ایسے خطوط کا کوئی جواب نہیں دیتے۔ چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ ایف بی آر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاملہ کی تحقیقات کرے یہ ایف آئی اے کا معاملہ نہیں تھا۔ جس نے فہرست مرتب کی کمیٹی کے ممبران نے رائے دی کہ اس معاملہ کو نیب کو دیا جائے جو یو اے ای کی حکومت سے 8ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والوں کی معلومات حاصل کرے۔ نیب کسی بھی ملک سے معلومات حاصل کرنے کا قانونی اختیار رکھتا ہے۔ تحریک انصاف کے رکن عمر اسد نے کہا کہ نیب کو معلومات لینی چاہیے جیسے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بارے میں حاصل کی گئی تھیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا اس ایشو پر سب کمیٹی کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد غور کیا جائے گا۔ ’’ربا کے خاتمہ کے بل پر غور کے دوران کمیٹی نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ بینکنگ سیکٹر سے سود کے خاتمہ کیلئے اٹھائے اقدامات کے بارے میں بتایا جائے۔ کمیٹی نے ’’وفاقی علاقہ میں منی لینڈنگ بل‘‘ کی منظوری دیدی۔ اجلاس کے دوران رشید گوڈیل اور چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ ارکان نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی میں رشید گوڈیل کا نام شامل کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے ارکان کی تجویز مسترد کردی جس پر رشید گوڈیل نے کہا کیا میری شکل پسند نہیں جس پر قیصر شیخ نے کہا کہ آپ کی شکل پسند نہیں جس پر رشید گوڈیل کمیٹی کے اجلاس سے واک آئوٹ کرگئے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...