جمہوریت کو خطرہ ہوا تو نوازشریف کی آواز کا انتظار نہیں کرینگے: سینیٹر سعیدغنی

24 نومبر 2017

لاہور( این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ محسوس ہوا تو نوازشریف کی آواز کا انتظار نہیں کریں گے البتہ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے کمزور ہونے والے نواز شریف کو سہارا دینے کیلئے ان کا ہاتھ نہیں تھامیں گے،تحریک انصاف طالبان کا سیاسی ونگ ہے اور عمران خان ایسا چہرہ ہے جو سیاست میں ان کی نمائندگی کرتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز پارٹی کے کارکن محمد صدیق عرف ہرا سائیں کے انتقال پر ان کے صاحبزادے محمد اکبر سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ ہرا سائیں جیسے کارکن کسی بھی پارٹی کااثاثہ ہوتے ہیں اور پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی ایسے کارکنوں کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے میثاق جمہوریت کے مطابق آئینی عدالتوں کے قیام کی بات کی تو نواز شریف نے اس سے انکار کیا کیونکہ وہ افتخار محمد چوہدری کو کمزور نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ جب مشرف کے دور میں اے آر ڈی بنی تو ا س وقت نواز شریف تنہا تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے انہیں اے آر ڈی میں شامل کر کے اس تنہائی سے نکالا لیکن پھر ایسا بھی ہوا کہ وہ اسے چھوڑ گئے ۔ شہباز شریف اورچوہدری نثار علی خان راتوں میں کہیں خفیہ ملاقاتیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہمارے خلاف سپریم کورٹ میں گئے انہیں اس وقت کیوں یاد نہیں آیا کہ جمہوریت کمزور ہو گی۔پارلیمنٹ کو یہ اہمیت نہیںدیتے۔ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ سب کچھ اکیلے ہی چلا سکتے ہیں تو مشکل وقت میں بھی اکیلے ہی اس کا مقابلہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے ساتھ ہماری کمٹمنٹ میں کوئی فرق نہیں آیا ، جمہوریت اور نواز شریف ایک چیز کانام نہیں ، جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو نواز شریف کی آواز کا انتظار نہیں کریں گے لیکن اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور غلط پالیسیوں کیو جہ سے کمزور ہونے والے نواز شریف کیلئے قطعاً آگے نہیں آئیں گے ۔ جمہوریت کے استحکام اور اس کی مضبوطی کے لئے پیپلز پارٹی کی سوچ اور ماضی سب کے سامنے ہے ۔