پنجاب فوڈ اتھارٹی کا زہریلی سبزیوں کیخلاف کریک ڈاؤن

24 نومبر 2017

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے)پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر کارروائیاں کرتے ہوئے زہریلے پانی سے اگنے والی2524 کنال سبزیاں ہل چلا کر تلف کر دیںتفصیلات کے مطابق لاہور میں 630 کنال، فیصل آباد میں 578 ، ملتان میں 210، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں مجموعی طور پر 278 کنال سبزیاں تلف کی گئیںمزید حکمت عملی کی تیاری اور موثر میپنگ کیلئے سپارکو کی سیٹلائٹس سہولت سے بھی مدد لی جا رہی ہے اورکسانوں کو زہریلی سبزیوں کے نقصانات کے بارے میں آگاہی کی ٹرینینگ بھی دی جا رہی ہے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق عوام کو صحت مند اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی اور ویجیلنس ٹیم نے شیخوپورہ اور رحیم یار خان سمیت صوبہ بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر گندے نالوں، انڈسٹریل ویسٹ اور دیگر کیمیکل ملے پانی سے سیراب ہونے والے علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے لاہور میں 630 کنال، فیصل آباد میں 578 ، ملتان میں 210، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں مجموعی طور پر 278 کنال سبزیاں تلف کیںڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کا کہنا تھا کہ زہریلی سبزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا یہ چوتھا مرحلہ ہے پہلے تین مراحل میں 20 ہزار کنال سے زائد زہریلی سبزیاں تلف کی جا چکی ہیں ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مزید واضع کیا کہ صوبہ بھر میں میپنگ کے بعد زہریلے پانی والے علاقوں کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے ریڈ زونز میں سبزیاں اور دیگر اشیاء خوردونوش اگانے پر مکمل پابندی عائد کر کے اگائی گئی سبزیاں تلف کی جا رہی ہیںمزید حکمت عملی کی تیاری اور موثر میپنگ کے لیے سپارکو کی سیٹلائٹس سہولت سے بھی مدد لی جا رہی ہے،اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو زہریلی سبزیوں کے نقصانات اور متبادل فصلیں اگانے کے بارے میں آگاہی بھی دی جا رہی ہے ،زہریلے پانی سے سبزیاں اگانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری رہیں گی ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ کیمیکل پانی سے سبزیاں اگانے پر فصلیں تلف کرنے کے علاوہ مزید قانونی کاروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے نیز سبزیاں صرف غیر آلودہ پانی سے اگانے کی اجازت ہے ایسے پانی سے کاشتکار صرف متبادل فصلیں اگائیں زہریلے پانی سے اگنے والی سبزیوں میں ٹیکسٹائل کیمیکل اور دیگر زہریلے مادے شامل ہو کر خوراک کا حصہ بنتے ہیںجو انسانوں کے لئے خطر ناک بیماریوں کاسبب بنتی ہیں کاشتکار ایسے پانی سے صرف پھول، بانس، پٹ سن، ان ڈور پلانٹس یا دیگر غیر خوردنی فصلیں اگا ئیں، تلف کیے گئے علاقوں میں دوبارہ سبزیاں اگانے پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔