ایک تصویر………… ایک کہانی

24 نومبر 2017

راولپنڈی فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کی وجہ سے جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس سروس 17روز سے معطل ہے۔ جس کی وجہ سے روزمرہ آمد و رفت اور سفر کی سہولت سے محروم ہونے والے ہزاروں مرد و خواتین ملازم پیشہ طبقہ اور طلباء و طالبات‘ تاجر‘دیہاڑی دار مزدور و محنت کش شدید سفری مشکلات کا شکار ہیں۔ میٹرو بس کے سٹیشن پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ خود میٹرو بس اتھارٹی کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ انتظامیہ نے تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے نہ ہی دھرنے کے دوران میٹرو بس اور دیگر ٹرانسپورٹ رواں رکھنے کے لئے اقدامات کرکے شہریوں کے لئے ریلیف کا اہتمام کیا کیونکہ دھرنے والوں نے ٹرانسپورٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ خود انتظامیہ نے مختلف سڑکوں کو بند کر رکھا ہے۔ اسلام آباد سے راولپنڈی آنے والی ٹریفک کو زیرو پوائنٹ سے بند کر رکھا ہے جبکہ آئی ایٹ تک ٹریفک آسکتی ہے اور آئی ایٹ سے آئی نائن اور نائنتھ ایونیو تک ٹریفک کو چلایا جاسکتا ہے جو ڈبل روڈ سے مری روڈ پر آسکتی ہے۔ عوام کی رائے ہے کہ حکومت ایک دھرنا ختم نہیں کراسکی تو عوام کی سہولت کے لئے اور کیا کرے گی۔ (تحریرو تصویر۔۔ایم جاوید)