ایف آئی اے کی ملی بھگت ‘جنوبی پنجاب میں انسانی سمگلروں کے پنجے مضبوط

24 نومبر 2017

ملتان (حفیظ اﷲ سے) ایف آئی اے حکام کی انسانی سمگلرز کے خلاف کارروائی زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی ہے اور ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں اس وقت700 سے زائد ٹریول ایجنسیاں و دفاتر قائم ہیں اور نوجوانوں کو شہریوں کو نوکریوں کا لالچ دے کر بھاری رقوم کے عوض انہیں بیرونی ممالک بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بیشتر افراد سے بھجوانے کا جھانسہ دیکر بٹورلی جاتی ہیں علاوہ ازیں عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والے افراد سے ٹریول ایجنسی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کرکے بھاری رقوم بٹور لئے ہیں مگر سعودی عرب میں انہیں سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ افراد کی جانب سے ایف آئی اے حکام کو درخواستیں دی جاتی ہیں مگر مافیا سے مک مکا کے باعث درخواستوں پر کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی اور دور دراز سے آنے والے شہری ایف آئی اے دفتر کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے ہیں ایف آئی اے حکام کا انسانی سمگلنگ میں ملوث مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ ہونے کے باعث بیرونی ممالک جانے والے افراد کو قتل کرنے سمیت دیگر واقعات پیش آ رہے ہیں جو کہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے شہریوں نے انسانی سمگلنگ اور فراڈ میں ملوث مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا ہے