ابراہیم جویو کا فلسفۂ زندگی تاریک راہوں میں روشنی کی کرن ہے ، فتح محمد ملک

24 نومبر 2017

اسلام آباد(نامہ نگار) ابراہیم جویو کافلسفہء زندگی ہمارے لیے تاریک راہوں میں روشنی کی کرن ہے۔ ان خیالات کا اظہارپروفیسر فتح محمد ملک نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام دانشور محمد ابراہیم جویو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ ایم این اے،مہمان خصوصی تھیںپروفیسر یوسف حسن ، ڈاکٹر خادم سومرو،حاکم علی برڑومنظور و سیریو اور دیگر نے محمد ابراہیم جویو کی ادبی خدمات کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ ابراہیم جویو نے بین الاقوامی ادب کے شہ پاروں کو جس چابک دستی اور زبان وبیان کی لطافت کے ساتھ سندھی ادب کا حصہ بنایا ہے، اس سے اذہان سازی میں جو انقلاب پیدا ہوا وہ ترقی پسند تحریک، روشن خیالی اور انسان دوستی کی ایسی راہوں کی کشادگی کا سبب ہوا کہ جس پر آج ہم ابراہیم جویو کے احسان مند ہیں۔محمد ابراہیم جویو آج ہم میں موجود نہیں رہے البتہ ان کا فلسفہء زندگی ہمارے لیے تاریک راہوں میں روشنی کی کرن ہے ۔ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ محمد ابراہیم جویو ایک معتبر اہل قلم کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔ ان کی وفات سے پاکستانی ادب ایک عالم اور دانشور سے محروم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک مصنف، عالم فاضل اور سماجی کارکن کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ وہ ایک ترقی پسند اور روشن خیال دانشور تھے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ابراہیم جویوکے انتقال سے سندھ کی تاریخ کا ایک باب بند ہو گیا۔