پاکستان سے سیریز بھارتی کرکٹ بورڈ نے حکومتی دروازے پر دستک دیدی

24 نومبر 2017
پاکستان سے سیریز بھارتی کرکٹ بورڈ نے حکومتی دروازے پر دستک دیدی

لاہور ( نمائندہ سپورٹس +سپورٹس رپورٹر) بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے سیریز کیلئے حکومتی دروازے پر دستک دیدی۔بی سی سی آئی آفیشل کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک سے کھیلنے کیلئے اصل اجازت وزیراعظم کے آفس سے درکار ہوگی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کی خصوصی جنرل میٹنگ 9 دسمبر کوہونا ہے جس میں نئے فیوچر ٹور پروگرام پر بات چیت ہوگی، یہ ایف ٹی پی آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ چیمپئن شپ اور ون ڈے لیگ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ حال ہی میں بی سی سی آئی کے سیکرٹری امیتابھ چوہدری نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے ایسا پروگرام ترتیب دینے پر غور ہو رہا ہے جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے لیگ دونوں میں ہی پاکستان سے کھیلنا نہ پڑے، انھوں نے یہ مثال بھی دی تھی کہ کسی بھی عالمی چیمپئن شپ میں اگر 20 ٹیمیں شریک ہوں تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سب ہی ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے بہرحال یہ بات بھی تسلیم کی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی مقابلے نہ ہونے سے عالمی کرکٹ پر اثر پڑتا اور اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔اب گذشتہ روز بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹیو راہول جوہری اور جنرل منیجر (ایڈمنسٹریشن اینڈ گیم ڈیولپمنٹ) رتناکر شیٹھی نے وزیر کھیل راجیا وردھن سنگھ راٹھورسے ملاقات کی جو45 منٹ تک جاری رہی، اس میں پاکستان کے ساتھ باہمی سیریز کا معاملہ بھی زیر غور آیا جبکہ نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے بھارتی کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ لینے کے مطالبے کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ بی سی سی آئی کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ ہم نے ہی وزیر کھیل سے اس میٹنگ کیلئے درخواست کی تھی جس میں مختلف معاملات زیر بحث آئے، ان میں پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات کا معاملہ بھی شامل تھا تاہم یہ بات واضح ہے کہ اسکا فیصلہ صرف وزارت کھیل کو ہی نہیں کرنا بلکہ یہ پرائم منسٹر آفس اور وزارت داخلہ پر منحصر ہے۔یاد رہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ 2012-13 کی محدود اوورز کی ہوم سیریز کے بعد سے کوئی باہمی سیریز نہیں کھیلی۔ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ اور ون ڈے لیگ کے تحت ہر ملک کو دوسرے کے خلاف کھیلنا ہوگا،اگر کوئی ملک طے شدہ سیریز کھیلنے سے بعد میں انکار کرتا ہے تواس کے پوائنٹس میں کٹوتی ہوجائے گی۔فی الحال دونوں بورڈز کے درمیان ٹیسٹ چیمپئن شپ یا ون ڈے لیگ میں کھیلنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل 2014 میں پی سی بی اور بی سی سی آئی کے درمیان 2015 سے 2023 کے دوران 6 باہمی سیریز کھیلنے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، بھارت نے بعد میں بگ تھری کے قیام کی صورت میں اپنا مطلب نکل جانے کے بعد پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا تھا، پی سی بی معاہدے کی اس خلاف ورزی پر اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرچکا ہے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...