مظفر گڑھ: فائرنگ سے نوجوان جاں بحق‘5 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ

24 نومبر 2017

مظفرگڑھ(نامہ نگار) مبینہ پولیس فائرنگ سے نوجوان جاں بحق ہوگیا،نوجوان کی ہلاکت کو پولیس نے پولیس مقابلے کا نتیجہ قرار دیا بعدازاںتھوڑی دیر بعد فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔تفصیلات کیمطابق موضع دین پورکی بستی سریں میں تھانہ سی آئی اے سٹاف ،تھانہ صدر اور تھانہ سول لائن پولیس کی مبینہ فائرنگ سے اختر دستی نامی شخص ہلاک ہوگیا ،اخترکے اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ انچارج سی آئی اے سٹاف منیر چانڈیہ کی سربراہی میںپولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل پرسوار اختر نامی نوجوان کو روکا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کردیا،ممبرقومی اسمبلی جمشیددستی کے احتجاج اور واقعہ کی خبر نشر ہونے کے بعد پولیس حکام حرکت میں آئے اور واقعے کو پولیس مقابلے کا نام دیدیا، پولیس ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کیمطابق مرنے والے اختر عباس کیخلاف اقدام قتل، چوری اور اسلحہ برآمدگی کے 5 مقدمات درج تھے،مقتول اختر عباس کے ورثاء نے واقعہ پر احتجاج کی دھمکی دی تو پولیس نے اہلکاروں کیخلاف قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج کرلیا،مقدمہ مقتول اختر عباس کے بھائی ارشد کی مدعیت میں سی آئی اے سٹاف کے انچارج منیر چانڈیہ سمیت 5 اہلکاروں کانسٹیبل سی آئی اے سٹاف بہادر ،کانسٹیبل عقیل عباس ،کانسٹیبل آفتاب احمد اور پولیس ڈرائیورحامدکیخلاف درج کیاگیا ہے۔دریں اثنا ء پولیس اہلکاروںکی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شخص کے ورثاء نے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے گرفتار نہ ہونے پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے روڈ پرلاش رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا ۔مظاہرین ممبر قومی اسمبلی جمشیددستی کی قیادت میں علی پور روڈ پر بیٹھ گئے اور پولیس کیخلاف نعرے بازی کی ۔مظاہرین نے ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا،بعدازاں ضلعی پولیس حکام کی جانب سے ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کی گرفتاری کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔