بدقسمتی یہ ہے ہمارے پاس ابھی تک نیشنل فوڈ سٹینڈرڈ کونسل نہیں: رانا تنویر

24 نومبر 2017

لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی خوراک کی انڈسٹری ملک کی دوسری بڑی انڈسٹری ہے اور ملک کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے پاس ابھی تک نیشنل فوڈ اسٹینڈرڈ کونسل نہیں ہے۔ صوبائی فوڈ حکام کو انڈسٹری اور آئندہ کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے مثبت اور فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔یہ قومی کانفرنس سائنسدانوں، ریگولیٹرز، اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو کھانے کے معیار اور حفاظت کی ہم آہنگی کے نئے راستے پیش کرے گی۔“ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے نیشنل کانفرنس سے خطاب کے دوران کیاجو نیسلے پاکستان کے ساتھ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت زیر عنوان”فوڈ سیفٹی اینڈ ہارمونائزیشن: شیپنگ اے ہیلدیئر نیشن“ منعقد کی گئی ۔کانفرنس میں پاکستان میں کھانے کی قانون سازی میں ہم آہنگی کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی تاکہ اندرونِ ملک اور انٹرنیشنل سطح پر تجارتی سہولتوں کے علاوہ کھانے کے معیار کو یقینی بنانے کے ساتھ صارفین کی صحت کی حفاظت بھی کی جاسکے۔Codex Alimentarius Commissionکی سبکدوش ہونے والی چیئر پرسن اویلو اوچنگ پرنیٹ نے کانفرنس سے اپنے کلیدی خطاب میں کہا: ”کھانے کی حفاظت اور معیار پر مو¿ثر عملدرآمد علاقائی و بین الاقووامی مارکیٹوں تک قومی مصنوعات کی رسائی کو مستحکم کرتی ہے۔ نیسلے پاکستان کے منیجنگ ڈائرکٹر اور سی ای او، اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے وائس پریزیڈنٹ، برونو اولیر ہوک نے زور دیا کہ وفاقی سطح پر پاکستان کی ایک قومی فوڈ کونسل ہونی چاہئے۔