مغربی ممالک سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے پاکستان میں عدم استحکام چاہتے ہیں

24 نومبر 2017

تخت بھائی( نامہ نگار )قائد جمعیت مولانا فضل رحمان نے کہا ہے کہ مغربی اور سیکولر قوتیں ایک سازش کے تحت علماء کو سیاست سے دور رکھنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تاکہ اسمبلیوں سے میں ان کے مفادات کاتحفظ اور پاکستان کے نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی راہ ہموار ہو کر ان کے من پسند لوگ برسر اقتدار آئیں ۔مغربی ممالک اور امریکہ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے پاکستان میں اپنے کٹھ پتلیوں کے ذریعے سیاسی افراتفری اور عدم استحکام پھیلانے کی بھر پور سازش کر رہے ہیں ،علماء متحد ہو کر باطل قوتوں کے خلاف اپنی صفیں مضبوط کر لیں ۔ وہ جمعرات کے روز جے یو آئی شعبہ خواتین کی صوبائی چیئر پرسن اور رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور کی رہائشگاہ گوجر گڑھی میں منعقدہ ایک روزہ عظیم الشان علماء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ مولانا فضل رحمان نے کہا کہ علماء کو ایک سازش کے تحت سیاست سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں آزادی کی جتنی جنگیں لڑی گئی ہیں سب کی قیادت علمائے کرام نے کی ہیں ، مغری ممالک پاکستان میں علماء کو سیاست سے الگ کرنے کا گھناونا کھیل کھیل رہی ہیں تاکہ سیکولر قوتوں کو اپنی من مانی کا موقع مل سکیں ، عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر کے علماء کو اسمبلیوں تک پہنچائے تاکہ مغربی اور سیکولر قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئین میں قابل اصلاح خامیاں موجود ہیں ، 1953؁ء میں ختم نبوت کی خاطر لاہور میں 10ہزار جانیں قربان ہوئیں اور آخر کار 1970؁ ء کے عام انتخابات کے بعد علماء نے اسمبلیوں میں پہنچ کر اسلامی قوانین سے آراستہ آئین تشکیل دینے کے لیے راہ ہموار کی۔انہوں نے کہا کہ علماء ایم ایم اے کی پلیٹ فارم پر متحد ہو چکے ہیں اور 2018؁ ء کے عام انتخابات قوم کے لیے نئی نوید ثابت ہونگے ۔