میجر اسحاق کی شہادت پر روئی نہیں، سر فخر سے بلند ہوگیا: والدہ ،بہت اچھے شوہر اور باپ تھے، اہلیہ، بچپن سے ہی کچھ کر گزرنے کا شوق تھا، بہنیں

24 نومبر 2017

لاہور (خصوصی رپورٹر+ سٹاف رپورٹر + لیڈی رپورٹر) میجر اسحق کاجنازہ جب انکی رہائشگاہ واقع واپڈاٹاؤن سے اٹھایاگیا تو انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ ان کی والدہ بیگم صوبیدار میجر محمد حسین، اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اسحق اور تینوں بہنیں زیتون، فرزین اور عائشہ شدت غم سے ندھال تھیں مگر اپنے جان سے پیارے میجر اسحق کوشہادت کارتبہ ملنے پراپنے رب کاشکر بھی اداکررہی تھیں۔ نوائے وقت سے گفتگو میں میجر اسحق کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے کو شہید کارتبہ ملا ہے میں اس پر خدا کی شکرگزار ہوںہمارے خاندان میں اسحق کے دادا، چچا اور چچا کابیٹابھی شہادت کے منصب پرفائز ہوچکے ہیں، وہ میرا لاڈلااور سب سے چھوٹا بیٹاتھا مجھے اس کے ساتھ بہت پیار تھا۔انہوںنے رندھے ہوئے لہجے میں بتایاکہ جب اس شہادت کی اطلاع ملی تو میں جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی اور فرط جذبات سے اس کے گال چوم لئے اور اللہ کے سپرد کردیا۔ تاہم میں بیٹے کی شہادت پر روئی نہیں، بیٹے نے سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ اہلیہ ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ اسحق بہت اچھے شوہراورباپ تھے، انکی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔ بہنوں زیتون اور عائشہ نے بتایاکہ ہم اپنے چھوٹے بھائی کی شہادت کی اطلاع سن کر کراچی اور اسلام آباد سے لاہورپہنچی ہیں، ہمیں فخر ہے تاہم اس صدمے کو برداشت کرنا بھی آسان نہیں، اسے بچپن سے ہی کچھ کرگزرنے کاشوق تھا، ہمارے والد کاانتقال 2008میں ہواتھا۔ میجراسحق کی خوشدامن مسز نسرین نے بتایاکہ میری بیٹی کی شادی تین اکتوبر2015کوہوئی، انہوں نے اپنی شادی کی دوسری سالگرہ بہت خوشی سے منائی، سواسال کی بیٹی فاطمہ اپنے بابا سے بہت اٹیچڈ تھی اب کل سے بہت ڈسٹرب ہے۔ میرے تین بھائی کرنل ہیں، اسحق بہت اچھاداماد تھا۔ انہوںنے بتایاکہ شہید کی بیوہ بہت بہادر ہے اور جب سے اطلاع ملی ہے روئی نہیں کہتی ہے اسحق نے کہا تھا کوئی ایسی ویسی بات ہوگئی توتم آنسو نہ بہانا۔