بیروت دھماکے: ایران پر 1.68 ارب ڈالر کے ہرجانہ کی رقم بنک منتقل

24 نومبر 2017

نیویارک(این این آئی)امریکا کے شہر نیو یارک میں فیڈرل اپیل کورٹ نے ا±س فیصلے کی تصدیق کر دی ہے جس میں ایران پر 1.68 ارب ڈالر ہرجانہ عائد کرنے اور اس رقم کو ایرانی مرکزی بینک کے اثاثوں میں سے حاصل کر کے انہیں ا±ن امریکی فوجیوں کے خاندانوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔مجموعی تاوان کا حجم 3.8 ارب ڈالر ہے۔ اس میں سے 1.68 ارب ڈالر کی رقم دو مختلف کھاتوں سے نیویارک میں ایرای مرکزی بینک کے کھاتے میں منتقل کر دی گئی۔ان میں ایک اطالوی بینک ہے جب کہ دوسرا بینک لیگزمبرگ میں ہے۔یاد رہے کہ ستمبر 2011 کے حملوں میں القاعدہ تنظیم کے ساتھ تعاون میں ملوث ہونے پر گزشتہ برس بھی ایران پر 10.7 ارب ڈالر کا ہرجانہ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 21 ارب ڈالر تک کے دیگر ہرجانوں کی رقم ا±ن امریکیوں کے خاندانوں کے لیے جو سعودی عرب ، لبنان اور کویت میں ایرانی پاسداران انقلاب کے حملوں میں مارے گئے تھے۔نیو یارک میں مین ہیٹن کی عدالت نے فیصلہ جاری کیا تھا کہ ایرانی حکومت کے زیر ملکیت علوی فاو¿نڈیشن کی عمارت اور دیگر پراپرٹیز (جس کی مالیت 5 ارب ڈالر کے قریب ہے) کو فروخت کر کے اس کی آمدنی 2004 سے 2009 کے دوران عراق میں دہشت گردی کا شکار بننے والے امریکی شہریوں کے اہل خانہ کو پیش کی جائے۔ یہ دہشت گرد کارروائیاں حزب اللہ اور انصار الاسلام نامی ملیشیاو¿ں نے کی تھیں جن کو ایران کی طرف سے مالی رقوم ، ہتھیاروں ، تربیت اور مشاورت کی سپورٹ فراہم کی گئی۔ادھر لیگزمبرگ میں یورپی عدالت نے بھی رواں برس 22 مارچ کو ایران کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ایران نے یورپ میں ایرانی مرکزی بینک کی مالی رقوم سے 1.6 ارب ڈالر کی رقم کی کٹوتی کے فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ رقم 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ کو دی جانا تھی۔ ایرانی نظام القاعدہ تنظیم کو سپورٹ فراہم کرنے کے ذریعے اس کارروائی میں ملوث رہی۔