افغانستان: مظاہرے میں خودکش حملہ‘ 8 ہلاک‘ 15 افراد زخمی

24 نومبر 2017

جلال آباد (اے ایف پی+ بی بی سی) افغان صوبے ننگرہار میں برطرف پولیس افسر کی بحالی کیلئے ہونیوالے مظاہرے میں خودکش حملے سے 8 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے، بچے بھی شامل ہیں۔ صوبائی ترجمان خوگیانی نے بتایا مرنیوالے تمام شہری تھے، فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب عوام کی بڑی تعداد ضلع خیوا میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث احتجاج کر رہے تھے۔ افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران حقانی نیٹ ورک کا اہم کمانڈر اور 36 جنگجو ہلاک ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز جاری کیے گئے الگ الگ بیانات میں افغان وزارت داخلہ اوردفاع نے کہاکہ افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران حقانی نیٹ ورک کا اہم کمانڈر اور 36 جنگجو ہلاک ہوگئے۔بیان کے مطابق صوبے وردک کے ضلع نرخ میں ایک کارروائی کے دوران حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر مارا گیا۔افغان وزارت دفاع کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 36 افغان جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ مارا جانے والا قاری قدرت اللہ حقانی نیٹ ورک کا اہم کمانڈر تھا۔دوسری جانب ماہرین نے کہا ہے افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی طرف سے طالبان کے خلاف نئی کارروائی کے باعث مقامی آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ماہرین نے کہا ہے امریکی افواج نے طالبان کی اْن فیکٹریوں پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہے، جہاں افیون تیار کی جاتی ہے۔امریکی حکام کے مطابق اس طرح طالبان کو اقتصادی طور پر بڑا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تاہم انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اس طرح شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو گا کیونکہ ایسے مقامات پر عام شہری ہی کام کرتے ہیں۔ طالبان اسی افیون سے ہی ہیروئن بنا کر اسے برآمد کرتے ہیں۔