کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس : مندرمیں تالاب کو ہر صورت بھرنا ہو گا چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا

24 نومبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ نوائے وقت نیوز+بی بی سی) سپریم کورٹ میں کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکیا اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل کو طلب کیا تھا، انکے دفتر سے کوئی نہیں آیا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا۔ پنجاب حکومت اور ڈی سی او چکوال نے رپورٹ جمع کرا دی ہے۔چیف جسٹس نے کہا ہندو بھی اس ملک کے شہری ہیں۔ہم ان کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔کٹاس راج مندر کے مسئلے کا حل چاہیے۔ جسٹس ثاقب نثار نے حکومتی نمائندوں کوہدایت کی مندرمیں تالاب کو ہر صورت بھرنا ہو گا۔ پنجاب حکومت کٹاس راج مندر سے متعلق ایک ہفتے میں تجاویز دے۔ عدالت نے کہا کہ اس مندر کو پانی فراہم کیا جائے چاہے اس کے لیے دس کنویں ہی کیوں نہ بند کرنا پڑیں۔ کٹاس راج کے تالاب میں پانی نہیں جس کی وجہ سے شدید مشکلات ہیں۔ از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہندو برادری کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی حفاظت کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ یہ صرف ہندوو¿ں کی عبادت گاہ ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان کا قومی ورثہ بھی ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت اور چکوال کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ ایک ہفتے میں تالاب پانی سے بھرنا چاہیے چاہے اس کے لیے مشکیں بھر بھر کر لے آئیں۔ عدالت میں پنجاب حکومت اور چکوال کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس پر سپریم کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کٹاس راج مندر کے پاس ایک سمینٹ کی فیکٹری ہے اور اطلاعات کے مطابق پانی کا ایک بڑا ذخیرہ اس فیکٹری میں استعمال ہو رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو سمینٹ فیکٹری کو بھی نوٹس جاری کر دیں گے۔ موٹر وے دیکھا جائے تو کٹاس راج کے قریب پہاڑوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ عدالت یہ نہیں کہتی کہ فیکٹریاں نہیں لگنی چاہئیں لیکن یہ اس جگہ پر ہونی چاہیے جہاں آبادی نہ ہو۔ عدالت ہندوو¿ں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی چاہے اس کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے اگر یہ معاملہ حل نہ ہو تو عدالت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کے علاوہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی طلب کرسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو کٹاس راج سے متعلق کمیٹی کا معاون مقرر کردیا ہے۔عدالت نے کہا کہ قومی ورثہ کے تحفظ کیلئے ہمیں ماہرین کی خدمات لینا ہونگی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے عدالت کو بتایا کہ سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے پانی کا استعمال پورے چکوال شہر کی آبادی سے زیادہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ مندر کے تاریخی تالاب میں پانی کی سطح کس طرح بحال کی جاسکتی ہے، اس کیلئے اگر دس کنویں بند کر کے یا سیمنٹ فیکٹری کی کھپت بند کرنا پڑے تو کرینگے۔
کٹاس مندر
چیف جسٹس