فوج اور حکومت ملکر چلیں تو اچھا ہو گا: ڈی جی آئی ایس پی آر

24 نومبر 2017
فوج اور حکومت ملکر چلیں تو اچھا ہو گا: ڈی جی آئی ایس پی آر

لاہور: (نوائے وقت نیوز) پاک فو ج کے تر جمان ڈائر یکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آئین میں اظہار رائے کی آزادی ہے تو عدلیہ اور فو ج پر تنقید کی ممانعت بھی، آئین پر جزوی عمل نہیں ہو سکتا، ملکی مفاد میں خواہ کچھ بھی ہو وہ کر ینگے، فوج اور حکومت مل کر چلیں گے تو اچھا ہو گا، وزیر اعظم عباسی کیساتھ بہتر کوآرڈی نیشن چل رہی ہے، دھرنے کا معاملہ افہام و تفہیم سے طے ہو نا چاہیے۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا سعودی عرب افواج پاکستان کی سپورٹ چاہتا ہے، عوام کی تائید و حمایت کے بغیر دنیا کی کوئی فوج نہیں چل سکتی، جو بھی فوج کا تشخص خراب کرنے یا توجہ ہٹانے کی کوشش کر ے گا تو ہم آئین کے مطابق کارروائی کر ینگے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ کیلئے فوجی اور سول قیادت ایک ہے بنیادی قوت ہمارا حوصلہ اور پاکستان کے عوام ہیں، پاکستان کے عوام حقیقی معنوں میں فوج کے ساتھ ہیں۔ اس بارے میں ہمیں ذرہ بھر شک و شبہ نہیں ہے، عوام ہمارے ساتھ نہ ہوں تو ہم کبھی چل ہی نہ سکیں۔ پاکستان کے سعودی عرب سے اہم تعلقات ہیں اس وقت مشرق وسطیٰ اور سعودی عرب کی جو صورتحال ہے وہ افواج پاکستان کی سپورٹ چاہتے ہیں اس سلسلے میں سعودی عرب سے بات چیت چل رہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب میں مفاہمت کے سوال پرمیجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جنگ اس وقت ہوتی ہے جب ڈپلومیسی ناکام ہو جائے، پاکستان کا کردار یہ ہے کہ خطے میں امن کے لئے کوئی کام کیا جائے، وزیر اعظم ،آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی ان امور پر بات چیت کیلئے سعودی عر ب جا رہے ہیں جس سے خطے میں تصادم سے بچا جاسکے اور امن برقرار رہے، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج ریاست کا ادارہ ہے، آئینی طور پر حکومت کے احکامات پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔ حکومت اور فوج دو ادارے ہیں لیکن ملک ایک ہے۔ مل کر چلیں گے تو اچھا کام ہوگا ۔ ہمارا فوکس ملک کے امن کے لئے ہے لیکن کوئی فوج کا تشخص خراب کرے گا یا اس کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی تو ہم آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ملک کے لئے کارروائی کریں گے۔ فوج ایک ادارہ ہے اور سب باتیں ہمارے علم میں ہوتی ہیں۔ فوج اور عدلیہ پر کی جانے والی تنقید کے بارے میں انھوں نے کہا کہ آئین آزادی رائے کا حق دیتا ہے لیکن آئین کے مطابق فوج اور عدلیہ کی تضحیک نہیں کی جاسکتی نہ ہی کوئی ایسی بات کرسکتے ہیں جن سے ان کی کارکردگی متاثر ہو۔ آئین کھل کر بولنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ بھی کہتا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے خلاف بات نہیں کرسکتے ہم ایک ذمہ دار فوج ہیں ملک کے استحکام کے لئے کام کر رہے ہیں فوج اپنے ملک کی حفاظت اور امن کے لئے جانیں پیش کر رہی ہے تو کیا ہم ان قربانیوں کو ضائع کرنے کے لئے کوئی کام کریں گے کہ ملک غیر مستحکم ہوجائے۔ فوج کوئی ایسا کام نہیں کر رہی جو ملک کے مفاد میں نہ ہو مگر جو بھی ملک کے مفاد میں ہو خواہ وہ کوئی بھی کام ہو وہ ہم کر ینگے۔ میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ دھرنے سے متعلق حکومت کے فیصلے پر عمل ہو گا، صورتحال افہام و تفہیم سے حل ہو جائے تو بہتر ہے ،حکومت نے جب بھی بلایا وہ کام کرنا فوج کا فرض ہے۔