دھرنا: آئی ایس آئی‘ آئی بی سنجیدگی دکھائیں‘ لگتا ہے سب شرارت کیلئے کیا جا رہا ہے: سپریم کورٹ

24 نومبر 2017

اسلام آباد (بی بی سی‘نوائے وقت رپورٹ) عدالت عظمیٰ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دھرنے والوں کے پیچھے کون ہے؟ انہیں کون لیکر آیا اور اسکا فائدہ کس کو مل رہا ہے؟ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیض آباد میں دھرنا دینے والے افراد کے بارے میں خفیہ اداروں، انٹرسروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ تو سنجیدگی دکھائیں اور یہ کہ اس سے اچھی رپورٹ تو میڈیا تیار کرسکتا ہے۔ رپورٹ لیکر وزارت دفاع اور آئی بی کے حکام عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ دو رکنی بنچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ شرارت کیلئے کیا جا رہا ہے تاکہ مظاہرین پر گولیاں برسائی جائیں اور ملک میں امن وامان کے حالات خراب کئے جائیں۔ سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کے حکام کو کہا کہ وہ ان سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے رپورٹ دیں کہ دھرنے والوں کے پیچھے کون ہے؟ انہیں کون لیکر آیا اور اس کا فائدہ کس کو مل رہا ہے؟ عدالت کا کہنا تھا کہ چند سو افراد نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں کے لوگوں کا جینا مشکل کررکھا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سکون میں ہے تو وہ لوگ جو گذشتہ دو ہفتوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد کے قریبی علاقوں میں فرد واحد کی رٹ قائم ہے جبکہ وہاں پر ریاست کی عملداری نظر نہیں آرہی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جس جگہ پر مظاہرین دھرنا دیے ہوئے ہیں وہاں سے کچھ فاصلے پر حساس تنصیبات بھی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزارت دفاع کے حکام سے استفسار کیا کہ فوج کا ہیڈکوراٹر بھی کچھ فاصلے پر واقع ہے لیکن انہیں اٹھانے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے جا رہے۔ عدالت نے وزارت دفاع کے حکام سے کہا کہ جو رپورٹ میں کہا گیا ہے وہ پہلے ہی میڈیا میں چھپ چکا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے وزارت دفاع کے حکام سے استفسار کیا کہ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ لوگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ عدالت نے آئندہ سماعت پر جمعرات کو حساس اداروں کے افسران کو پیش ہونے اور جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ بنچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے حیرانی کا اظہار کیا کہ دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ نے انتخابات میں حصہ لیا اور یہ جماعت اسی نام سے کیسے رجسٹر ہو گئی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے دھرنا دینے والے افراد کے بنک اکائونٹس بند کئے ہیں اور کیا انکی سپلائی لائن کو کاٹا گیا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بنک اکاونٹس کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کی جارہی ہیں۔ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین کیخلاف 18 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 169 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دھرنے میں مسلح لوگ بھی ہیں مذاکرات کر رہے ہیں طاقت استعمال کر کے حالات خراب نہیں کرنا چاہتے‘ جلد پیشرفت کا امکان ہے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ لگتا ہے مسلمانوں کا اسلامی ریاست میں رہنامشکل ہوتاجارہاہے، اسلام میں کہیں ایسا نہیں لکھا کہ راستہ بند کردیا جائے، دھرنا پر خرچ ہونے والے خزانے کے ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہے۔ کیا عدالتیں بند ہوگئی ہیں ،کل کوئی اور مسئلہ آئے گا تو کیا پھر شہر بند ہو جائیں گے۔ پاکستان کو دلائل کی بنیاد پر بنایا گیا، جب دلیل کی بنیاد ہی ختم ہوجائے ،ڈنڈے کے زور پر صحیح بات اچھی نہیں لگتی، اپنی شہرت کیلئے سب ہورہا ہے تاکہ نام آجائے، لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے، ایک حوالہ دے دیں کہ راستہ بند کردیا جائے، اسلام میں کہیں ایسا نہیں لکھا، جب ریاست ختم ہوگی تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ احکام الٰہی پر عمل نہیں ہو رہا اور ریاست کا سرجھکا ہوا ہے، ہم بھی پریشان ہوتے ہیں مگر گالم گلوچ نہیں کرتے ، یہ سب انا کیلئے ہو رہا ہے۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا کنٹینر عوام کے پیسے سے لگائے گئے ہیں ، کتنا خرچہ آرہاہے۔ پبلک ٹرانسپرنسی کیلئے بتایا جائے کتنا خرچہ ہو رہا ہے، رحمت کا سلام کسی کے منہ سے کیوں نہیں نکل رہا، سب کے منہ سے گالم گلوچ نکل رہی ہے، سمجھ نہیں آرہی یہ ملک کیسے چلے گا، کل ایسا کرتے ہیں مقدمہ سڑک پر لے جاتے ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل اور عدالت میں موجود وزارت داخلہ و دفاع کے حکام کے استفسار کیا دھرنے والوں کوکھانا پینا کیسے جارہاہے؟ ہم نہیں چاہتے کہ ان پر گولیاں برسائی جائیں، دھرنے والوں کو سہولیات بھی فراہم نہ کی جائیں۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا بھی آئین کے آرٹیکل 19کا خیال کرے۔ ایسے لوگوں کو دعوت نہ دے جو انکے حامی ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر دھرنے کی خبروں کوبلاک کیوں نہیں کیا گیا؟ ہماری ذمے داری قانون کی تشریح ہے، بتائیں کیا حکم دیں؟ ذمہ داری ریاست اور انتظامیہ کی ہے، ہم آپ کا کام نہیں کریں گے پھر آپ ہی شکوہ کریںگے کہ ہمارے کام میں مداخلت ہوئی۔ دھرنے سے متعلق حکومت سے 30 نومبر تک رپورٹ طلب کر لی گئی۔ انہوں نے کہا سب انا کیلئے ہو رہا ہے۔ ایجنسیوں پر اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں ان کا کردار کہاں ہے‘ وہ کیوں خاموش ہیں اگر کوئی خفیہ بات ہے تو بند لفافے میں دے دیں‘ رسول اکرمؐؐ نے فرمایا تھا مسکرانا بھی صدقہ ہے آج مجھے کوئی مسکراتی شخصیت نظر نہیں آ رہی۔