معمر جوڑے پر تشدد‘ وزیراعلیٰ کا ڈی ایس پی و دیگر ذمہ داران کو برطرف کرنے کا حکم

24 نومبر 2017

ملتان (سپیشل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے ملتان میں پولیس تشدد کا نشانہ بننے والے بزرگ جوڑے نے گزشتہ روز لاہور میں ملاقات کی اور وزیراعلیٰ نے بزرگ جوڑے سے واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں- وزیراعلیٰ نے بزرگ جوڑے پر تشددکے واقعہ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے سخت ایکشن لیا ہے -وزیر اعلیٰ نے متعلقہ سرکل کے ڈی ایس پی ، ایس ایچ او ، سب انسپکٹر اور اے ایس آئی کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت سوز واقعہ کے ذمہ داروں کو ملازمت میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ -غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے -میں معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا-انہوںنے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے غریب بزرگ جوڑے سے ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں انہوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ ہر صورت انصاف ہو گا- وزیر اعلیٰ نے بزرگ جوڑے کے معاملے میں تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے بھی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انکوائری کمیٹی سات روز میں ذمہ داروں کا تعین کر کے رپورٹ پیش کرے-وزیر اعلیٰ نے بزرگ جوڑے کے معاملے کے حل کے لئے ممبر پی اینڈ ڈی بابر حیات تارڑاور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی کمیٹی کو صبح آٹھ بجے تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ کمیٹی پوری رات بیٹھ کر معاملے کا منصفانہ حل تلاش کرے-وزیر اعلیٰ نے بزرگ جوڑے کی بیٹی کے علاج معالجے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی مدیحہ کا لاہور کے اچھے ہسپتال سے علاج کرایا جائے- وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں محمد ادریس ، ان کی اہلیہ نسیم بی بی اور بیٹی مدیحہ شامل تھیں۔