جشن عید میلاد

24 نومبر 2017

محد رمضان چشتی
آج ملک بھر میں جشن عید میلاد جوش و خروش سے منانے کی تیاریاں عقیدت و احترام سے جاری ہیں۔ مساجد اور بڑی بڑی عمارتوں پر چراغاں کے لئے رنگ برنگے قمقموں کو لگایا اور بازاروں کو جھنڈیوں سے سجایا جارہا ہے اور کیوںنہ سجایا جائے کہ بارہ ربیع الاول کا دن وہ عظیم دن ہے جب سرکار دو عالم رحمت اللعالمینؐ دنیا میں تشریف لائے۔سرکارِدو عالمؐ کا میلاد پاک کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا مگر آج میلاد مصطفیٰؐ کا نام جشن رکھ دیا ہے ، عید میلادالنبیؐ کی محفلوں میں جس طرح ہماری آج کی نوجوان نسل جو خرافات کر رہی ہے یعنی جشن کے نام پراس بابرکت رات جو بے ادبی کی جارہی ہے فلمی گانوںکی دھنوں پر نعتیں پڑھی جارہی ہیں ساونڈ کی اونچی اونچی آوازوں سے کچھ سنائی نہیں دیتا اور پھر نعت خوان کس طرح کا کلام پیش کرتے ہیں ہے اسی طرح سننے والوں کو کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کھڑے کر۔ آج سے بیس تیس سال پہلے بھی اس موقع کی مناسبت سے گھروں میں پاکیزہ محافل ہوتی تھیں ، جلوس بھی نکالے جاتے تھے مجھے یاد ہے سب سے بڑا جلوس دہلی دروازے سے نکالا جاتا تھاجو حضرت داتا گنج بخشؒ کے دربار پر ختم ہوتا تھا اس جلوس میںہزاروں لوگ حضورؐ پر درودوسلام ، نعتِ پاک پڑھتے اور نعت خوان اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے نہ کوئی نعت خوان پیسے مانگتا تھا ۔ آج جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے جلوس میں نوجوان جانوروں، پرندوں والے ماکس پہنے اس دن کو منا رہے ہوتے ہیں’’ خوشبو آنہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے‘‘۔ ہمارے بزرگ نواب حیدرآباد کے بیٹے نواب محمد مشتاق احمد خان کے گھر ماڈل ٹائون پر عید میلادالنبی کی محفل ہوتی خان صاحب فرماتے’’ یہ عیدوں کی عید ہے۔‘‘ ماڈ ل ٹاو ن ڈی بلاک میں نبی کریمؐ کے بڑے تبرکات تھے موئے مبارک بھی تھا ۔ نواب صاحب سعودی گورنمنٹ کو سعودی عوام پر خرچ کرنے کے لیے حیدرآباد دکن سے کروڑوں روپے دیتے تھے تو سعودی بادشاہ نواب صاحب کو تبرکات اپنے ہاتھوں سے دیتے تھے اور نواب صاحب ربیع الاول سے لاکھوں کو زیارت کراتے۔ محفل میلاد ہوتا۔ میرے والد محترم ثناء خوان الحاج عبدالرشید چشتی کے ساتھ مجھے بھی نعت پاک پڑھنے کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک اور روحانی شخصیت میجر الحاج محمد افتخار بی بلاک ماڈل ٹائون ایک عظیم جلوس نکالا کرتے کیا مجال کوئی اُونچی آواز میں بات بھی کرجائے ہزاروں حضورؐ کے غلام بیٹھے ہوتے تھے آج ان کے سامنے آج جو کچھ ہورہا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے آج تو نعت خوان صرف منہ ہلا رہا ہوتا ہے۔ نعت ایسے ریکارڈ کی ہوتی ہے جیسے گانے والے سٹیج پر کھڑے ہوکر میوزک پر گانے گاتے ہیں۔ وہ صرف منہ ہلاتے ہیں ۔
اسی طرح انتظار حسین زنجانی گلبرگ میں چار ربیع الاول کو میلاد مصطفیٰ ؐ کا دل کی گہرائیوں سے سرکار دو عالم کا میلاد مناتے ہیں۔ ماڈل ٹائون فیروز پور روڈ پر مرزا محمد سلیم بیگ کے گھر بھی میلاد پاک میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے گدی نشین تشریف لاتے ، کراچی سے حاجی محمد وسیم کہتے ہیں کہ کراچی میں اسی طرح کی ا محفلیں نہیں ہوتی ۔ اس لئے کراچی کے نعت خوان دوسرے صوبے میں چلے جاتے ہیں۔سید حبیب اشرف صبوحی کے گھر گارڈن ٹائون میں حضورؐ کے ذکر کی محفل ہوتی ہے نہ کسی سے چندہ لیتے ہیں ۔حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ پنجابی میں فرماتے ہیں۔
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جان آکھاں کہ جانِ جہان آکھاں
اور علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل
جس نے غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
مزید فرماتے ہیں:
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
پیر نصیرالدین نصیرنے کہا
ادب یہ ہے کہ جہاں اُن کا نام آجائے
وہاں زباں پہ درودوسلام آجائے
میرے والد محترم الحاج عبدالرشید چشتی کے گھر سالہا سال محفل میلاد ہر ماہ چاند کی 21 تاریخ کو کی پاکیزہ محفل ہوتی انھوں نے کبھی کسی سے چندہ نہیں لیا۔ چشتی صاحب کا نعت کے دیوان میں ایک بھی لفظ تم تو یا تیرا نہیں ہے یہ ان کی سرکار سے عقیدت تھی گلوکار عنایت عابد،گلوکار فاروق بمبہے والے کہتے ہیں ہمارا اور نعت خوان کا کیا فرق ہے ہم فلمی طرزوں پر گانے گاتے ہیں۔ نعت خوان ہم سے سیکھ کر فلمی طرزوں پر نعتیں پڑھتے ہیں ہم عام کپڑے پہنتے ہیں مردوں والے نعت خوان عورتوں والے کپڑے پہنتے ہیں ۔ ہم بھی سائونڈ پر ریکارڈ کی کیسٹ لگا کر گاتے ہیں نعت خان بھی سائونڈ پر دف بھری کیسٹ سٹیج پر نعت پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم برے ٹھہرے یا گناہگار ۔
چراغ ایسا جلایا جارہا ہے
اندھیروں کو مٹایا جارہا ہے
وہ ازلی نور چھایا جارہا ہے
جہاں کو جگمگایا جارہا ہے
حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کا درودوسلام ساری دنیا میں ہر وقت پڑھا جارہا ہے کہیں دن ہے سی ملک میں رات ہے۔
مصطفیٰؐ جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اُس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام
نذیر احمد غازی کے گھر ہر اتوار کو صبح جوہر ٹائون میں درود پاک کی محفل ہوتی ہے۔ سمن آباد میں محمد سرور بھٹی کے گھر چاند کی 20 تاریخ محفل میلاد کا اہتمام ہوتا ہے۔ ٹائون شپ میں خالد محمود، محمد جاوید خان، ملک محمد انور کے عیدمیلادالنبی کی خوشی میں میلاد شریف محفل کرتے ہیں۔اسی طرح سید غلام نقشبند فیروز پور روڈ حضورؐ سید دو عالم کا میلاد مناتے ہیں۔ اسی طرح محمد اعظم ڈار نعت پاک بھی پڑھتے اور اپنے ہوٹل میں محفل میلاد کراتے ہیں جس نعت خوان محمد جاوید چشتی اور علمائے کرام قاری صاحبان خطاب کرتے ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی فرماتے ہیں:
ہر دل کو جگمگاتی ہے طیبہ کی روشنی
دیکھی ہے ہم نے گنبد خضریٰ روشنی
بادامی باغ جامع مسجد سے صبح نماز کے بعد مفتی محمد ابوبکر کی قیادت حضورؐ کی آمد کی خوشی درود پاک پڑھتا ہوا۔
جس سہانی گڑھی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
ڈاکٹر احمد حسن کہتے ہیں کہ اصل میں ہماری تربیت کوئی نہیں کرتا عید میلادالنبیؐ ہماری سب عیدوں سے بڑی عید ہے۔ نبی کریمؐ کے طفیل ہمیں اللہ رب العزت کی ذات ملی ہمیں قرآن ملا ہم مسلمان ٹھہرے، روزہ، حج، زکوٰۃ نماز ملی دوسری قوموں سے ہماری اعلیٰ زندگی گزارنے کا موقع ملا تو دیکھ کر ہماری نوجوان نسل عید کے دن ایسے جشن مناتے ہیں جیسییہ ہمارا نہ؁ کسی یورپی ملک کا تہوار ہے موٹرسائیکلوں کے سلنسر کھول کر ساری رات سڑکوں پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش صبح ہسپتالوں میں زخمی لیٹے ہوتے ہیں ان نوجوانوں کو درودوسلام پڑھنا چاہئے ۔۔۔

محفل میلاد

لاہور (پ ر) پاور ہائوس مغلپورہ میں سالانہ محفل میلاد کل ہوگی ایک خوش نصیب کو ...

محفل میلاد مصطفیؐ

لاہور (پ ر) داتا حضور میلاد کمیٹی کے زیراہتمام سالانہ محفل میلاد مصطفیؐ آج ...