اختلافات کے باوجود ہمیںملک کاسوچنا ہوگا‘فضل الرحمن

24 نومبر 2017

مردان (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے قومی اسمبلی میں ایک جیب کترے کی جانب سے ختم نبوتؐ سے متعلق قانون میں لگائی گئی نقب کو حکومت سے رابطہ کرکے ناکام بنا دیا۔ علماء کرام نہ ہوتے آج پاکستان کا حال لیبیا اور عراق جیسا ہوتا، پیسوں پر بکنے والوں کو ہم جانتے ہیں۔ آج کے علما نظریاتی ہیں، وہ پیسے حکومت کے منہ پر ماریں گے۔ مردان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہماری اسمبلی میں ایک جیب کترا آیا جس نے ختم نبوتؐ سے متعلق قانون میں نقب لگائی لیکن وہ پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا ہم نے نوازشریف سے رابطہ کرکے ختم نبوت کیخلاف ہونیوالی سازش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کا منصوبہ ہے اسی لئے پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا رہا ہے۔ عالمی قوتیں داخلی طور پر پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتی ہیں، ہمیں اختلافات کے باوجود پاکستان کا سوچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا جے یو آئی اس قابل ہے کہ قوم کی نمائندگی کرسکے۔ جے یو آئی نے پرامن انداز کے ساتھ آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے، ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں نے قربانیاں دی ہیں، امن کی خواہش سب کی ہے، مجھ پر اور میرے گھر پر حملے ہوئے لیکن ہم نے پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ ہم ایک پیج پر نہ آتے تو فوج کبھی تنہا کامیاب نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا آج بھی مدارس اور علمائے کرام نشانے پر ہیں، روس کیخلاف 14 سالہ جنگ نے جہادی کلچر پیدا کیا لیکن پھر امریکہ اور عالمی قوتوں کا نظریہ بدل گیا۔ اب عالمی قوتیں چاہتی ہیں نوجوان ریاست کے مقابلے میں کھڑے ہوں۔

فضل الرحمن