سا بق چیف سیکر یٹری صدیق میمن کے خلا ف غیر قا نونی الا ٹمنٹ کیس کی سماعت

24 نومبر 2017

کراچی (وقائع نگا ر)سندھ ہائی کورٹ نے سابق جیف سیکریٹری صدیق میمن اور دیگر افسرانکے خلاف زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی۔جمعرات کو ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو سابق چیف سیکرٹری صدیق میمن اور دیگر افسران کے خلاف زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق سماعت ہوئی۔ پراسیکیوٹر نیب نے بتایا صدیق میمن اور دیگر کے خلاف تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں،ریفرنس دائر کرنے کے لیے معاملہ چیئرمین کو بھجوا دیا۔ ملزم نے نیب کو رضا کارانہ پیسے واپس کرنے کی درخواست دائر کی تاہم منظور نہیں کی گئی۔ زمین کی الاٹمنٹ کے خلاف دیوانی کی درخواست 2007 میں دائر کی گئی تھی۔ سابق چیف سیکرٹری صدیق میمن سمیت دیگر افسران غیرقانونی الاٹمنٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ صدیق میمن،قادر میمن، ڈپٹی سیکرٹری ریونیو قادر میمن، جی ایم سوہاگ اور دیگر شامل ہیں۔ سابق چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن اور 5 افسران سمیت 12 ملزم شامل ہیں۔ ملزموں نے گلستان جوہر اسکیم 33 میں 6 ایکڑ زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی۔ زمین کو جعلی دستاویزات پر الاٹ کیا گیا، صدیق میمن اور دیگر کے خلاف اہم شواہد حاصل کرلیے ہیں۔ عدالت نے صدیق میمن کے وکیل کی عدم حاضری پر سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی۔دریں اثنا ء سندھ ہائی کورٹ نے لیاری ری ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کے معاملے پر آغا مسعود اور عبد الغنی کی عبوری ضمانت میں 25جنوری تک توسیع کردی۔ جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو لیاری ری ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ میں کرپشن سے متعلق ملزمان کی ضمانت پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے لیاری ری ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کرپشن میں ملزم آغا مسعود عباس اور ملزم عبدالغنی کی ضمانت میں 25 جنوری تک توسیع کردی۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کء آغا مسعود عباس سمیت دیگر پر لیاری ری ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ میں اربوں روپے کرپشن کا الزام ہے۔ ملزموں نے ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے اب ٹرائل چلانے میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے۔

غیر قا نو نی الا ٹمنٹ کیس