تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدودمیں رہ کر کام کریں تو ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کبھی نوبت نہ آئے

24 نومبر 2017

ترجمان پاک فوج کا ملک کے تحفظ اور آئین کی پاسداری کیلئے فوجی اور سویلین لیڈرشپ کے ایک ہونے کا عندیہ

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ دھرنے سے متعلق حکومت کے فیصلے پر عمل ہوگا‘ حکومت نے جب بھی بلایا‘ وہ کام کرنا فوج کا فرض ہے۔ پاکستان کے تحفظ کیلئے فوجی اور سویلین لیڈرشپ ایک ہیں۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شہید ہمارے لئے اور اپنے خاندانوں کا فخر ہیں‘ ہم نے ملک کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے جنازوں میں سیاسی قیادت اور وزراء بھی شریک ہوتے ہیں۔ قومی حمایت کے بغیر کوئی فوج کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہماری کامیابی قوم کی حمایت کی وجہ سے ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول و عسکری قیادت ملک کے تحفظ کیلئے ایک ہے ہمیں ملکی تحفظ کیلئے ایک ہی رہنا ہے۔ فوج ریاستی ادارہ ہے اور حکومت کے احکامات پر چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کا افہام و تفہیم سے حل ہی بہتر ہے۔ انکے بقول دہشت گردی کیخلاف جنگ آسان نہیں‘ پاک فوج نے بہت لمبا اور مشکل سفر طے کیا ہے اور بہت سے علاقوں میں امن بحال کیا ہے۔ پاکستان میں اب کوئی منظم دہشت گرد تنظیم نہیں۔ ہم انٹیلی جنس بیس اپریشنز سے دہشت گردوں کے رابطے توڑ رہے ہیں۔ آنیوالے دنوں میں امن مزید بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتیں ہمیں ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ ہم ملک میں کسی صورت امن خراب نہیں ہونے دینگے۔ ملک میں امن کیلئے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور فوج کمزور ہو جائے تو یہ ملک کیلئے اچھا نہیں ہے۔ ہم آئین کی سربلندی کیلئے اپنا کام کرتے رہیں گے‘ خواہش ہے پاکستان کے تمام ادارے مل کر کام کریں۔ افواج پاکستان کوئی تصادم نہیں چاہتی ہے اور نہ کریگی۔
موجودہ منتخب سول سیٹ اپ کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس کا تقریباً پورا عرصہ جمہوریت کو عدم استحکام کا شکار کرنیوالی سازشوں کا سامنا کرتے گزرا ہے۔ اس میں پہلے تین سال کی اپوزیشن کی سیاست میں دھرنوں اور دوسری احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے اعلانیہ ’’امپائر‘‘ کی انگلی اٹھنے کا عندیہ دیا جاتا رہا اور حکومت کیلئے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والے بنائے گئے اس ماحول میں بالآخر اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو خود وضاحت کرنا پڑی۔ اسی طرح موجودہ منتخب سول سیٹ کے اقتدار کا اب تک کا ڈیڑھ سال کا عرصہ اسٹیبلشمنٹ کے نام پر کی جانیوالی سازشوں کا سامنا کرتے گزرا ہے جس میں ریاستی ادارے فوج کے علاوہ عدلیہ کا نام بھی سازشی عناصر کی جانب سے استعمال ہونے لگا اور پانامہ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت اور پھر اس کیس کے فیصلہ کے تحت میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے منصب سے علیحدگی کے حوالے سے حکومت مخالف عناصر کی جانب سے جن میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پیش پیش رہے ہیں‘ یہی تاثر دیا جاتا رہا کہ ان دونوں ریاستی اداروں نے حکمران خاندان سمیت تمام کرپٹ سیاست دانوں کو کیفرکردار کو پہنچانے کا عہد کر رکھا ہے۔
آئین و قانون کی حکمرانی‘ انصاف کی عملداری اور کرپشن فری معاشرے کی تشکیل بلاشبہ ملک کے ہر شہری کا مطمح نظر ہے جس کیلئے وہ بلاامتیاز اور بے لاگ قانون کی عملداری اور انصاف کی فراہمی کے متمنی ہیں چنانچہ کرپشن کے الزامات اور نیب کے مقدمات میں ملوث ہر شخص کو بلاتاخیر قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے ہی کرپشن فری معاشرے کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ پانامہ لیکس میں سیاست دانوں‘ تاجروں‘ بیوروکریٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سمیت تین سو سے زائد شخصیات کے نام آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے سامنے آئے تاہم ان میں سے جب صرف حکمران خاندان کیخلاف مقدمات کھول کر انہیں قانون و انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عمل شروع ہوا تو اس سے متاثرہ فریق کے دلوں میں امتیازی کارروائی کا تاثر پیدا ہونا فطری امر تھا جبکہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے فاضل ججوں کی جانب سے دیئے جانیوالے غیرمعمولی ریمارکس اور پھر نیب کو ان کیخلاف ریفرنس تیار کرکے احتساب عدالت کو بھجوانے‘ نیب کورٹ کی کارروائی کی مانیٹرنگ کیلئے عدالت عظمیٰ کے ایک فاضل جج کو نگران جج تعینات کرنے اور ریفرنسوں کے فیصلہ کیلئے ایک مخصوص مدت کا تعین کرنے سے میاں نوازشریف اور انکے اہل خانہ کیلئے امتیازی کارروائی کے تاثر کو مزید تقویت حاصل ہوئی اور ان کا یہ الزام بادی النظر میں درست نظر آنے لگا کہ یہ انصاف کا نہیں سیاسی انتقام کا کیس ہے۔ میاں نوازشریف‘ انکی صاحبزادی مریم نواز اور حکمران مسلم لیگ (ن) کے دوسرے عہدیداران اور وزراء کی جانب سے ابھی تک اسی تاثر کا اظہار کیا جارہا ہے چنانچہ بزرگ سیاسی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی کو بھی گزشتہ روز اس رائے کا اظہار کرنا پڑا کہ مسلم لیگ (ن) کو سپریم کورٹ کے ریمارکس کے ردعمل میں ہی ایک نااہل شخص کو پارٹی صدارت کیلئے اہل قرار دلانے کا پارلیمنٹ میں بل لانے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جبکہ سینٹ کے قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن کو میاں نوازشریف کے عدلیہ کیخلاف بیانات سے جمہوریت ڈی ریل ہوتی نظر آرہی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عدلیہ‘ انتظامیہ‘ مقننہ اور افواج پاکستان سمیت ہر ریاستی ادارے کو آئین میں متعینہ اپنی حدود و قیود اور اختیارات کے دائرے میں رہ کر ہی اپنے فرائض منصبی ادا کرنے ہیں۔ وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام میں آئین کے ماتحت ریاستی ادارے پارلیمنٹ (مقننہ) کو اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ اس نے ہی امور حکومت و مملکت کی انجام دہی اور ریاستی اداروں کی حدود و قیود سے متعلق قوانین اور قواعد و ضوابط وضع کرنے ہوتے ہیں۔ اگر تمام ریاستی ادارے اپنے متعینہ آئینی اختیارات کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کررہے ہوں تو اداروں کے مابین کسی قسم کا تنازعہ ہی پیدا نہ ہو مگر بدقسمتی سے ہمارا ماضی اس معاملے میں کچھ اچھا نہیں گزرا اور چار طالع آزما جرنیل بندوق کے زور پر منتخب حکومتوں اور جمہوریت کو روند کر اور آئین کو معلق کرکے ماورائے آئین اقتدار پر براجمان ہوچکے ہیں۔ اگرچہ سیاستدانوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت اور عدلیہ نے ججز بحالی کیس کے فیصلہ میں نظریہ ضرورت کو سپریم کورٹ کے احاطہ میں دفن کرنے کا اعلان کرکے آئندہ کیلئے ماورائے آئین اقدامات کا راستہ بند کرنے کی کوشش کی مگر اسکے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو محلاتی سازشوں کے جن کٹھن مراحل سے دوچار ہونا پڑا اسکے پیش نظر جمہوری نظام پر ماورائے آئین اقدام کے خطرے کی تلوار ہمہ وقت لٹکتی نظر آتی رہی ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت برقرار ہونے کے باوجود میاں نوازشریف آج بھی جمہوری نظام کو لاحق ایسے خطرات کی نشاندہی کررہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ اداروں کے ساتھ ٹکرائو کے راستے پر بھی گامزن نظر آتے ہیں۔ اس ماحول میںجب ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کی غلطی پر حکومت کے شرمسار ہونے اور حلف کی اصل عبارت من و عن بحال کرکے اسے انتخابات کے مروجہ قانون کا پہلے ہی کی طرح حصہ بنانے کے باوجود علامہ حافظ خادم حسین رضوی اپنے کارکنوں کے ساتھ گزشتہ دو ہفتے سے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیئے بیٹھے ہوں اور علانیہ اس امر کا اظہار کررہے ہوں کہ وہ تو فوج ہی کا موقف مضبوط کرنے کیلئے بیٹھے ہیں اسلئے انہیں یقین ہے کہ فوج انہیں ہٹانے کیلئے نہیں آئیگی تو دھرنا ختم کرانے میں حکومت کی بے بسی سے سسٹم کیخلاف محلاتی سازشوں کے تاثر کو ہی تقویت ملے گی۔
اس کشیدہ ماحول میں پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت سسٹم کیلئے ہوا کے خوشگوار جھونکے کے مترادف ہے کہ فوج کا ادارہ حکومت کے تابع ہے اس لئے دھرنے کے معاملہ میں حکومتی فیصلے پر عمل کیا جائیگا۔ اسی طرح انہوں نے یہ کہہ کر بھی سسٹم کیخلاف محلاتی سازشوں کا تاثر دور کردیا کہ تمام ادارے مل کر چلیں گے تو پاکستان آگے بڑھے گا جبکہ اس وقت فوج کے حکومت کے ساتھ تعلقات بہترین اور ملکی سلامتی کے معاملہ پر سول اور فوجی لیڈرشپ ایک ہے‘ انہوں نے آئین کی سربلندی کیلئے کام کرتے رہنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے جو موجودہ صورتحال میں خوش آئند ہے۔
آئین پاکستان نے تو افواج پاکستان کی حدود و قیود اور ذمہ داریاں صراحت کے ساتھ متعین کر رکھی ہیں‘ آئین کی دفعہ 243(1) میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ مسلح افواج مکمل طور پر وفاقی حکومت کی کمان اور کنٹرول میں ہونگی اور صدر مملکت اس ریاستی ادارے کے سپریم کمانڈر ہیں۔ اسی طرح آئین پاکستان کے تھرڈ شیڈول میں دیئے گئے افواج پاکستان کے حلف کے مطابق جو اس ادارے کا ہر رکن اس ادارے میں شمولیت اختیار کرتے وقت اٹھاتا ہے۔ یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ’’میں پاکستان کا وفادار رہوں گا‘ آئین پاکستان کی مکمل پاسداری کروں گا اور خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں کروں گا‘‘۔ اس اٹھائے گئے حلف اور آئین کی دفعہ 243(1) کی پاسداری کرتے ہوئے افواج پاکستان کا کوئی رکن کسی حکومتی فیصلے کی عدم تعمیل کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاک فوج کے ترجمان نے آج خود بھی اسکی وضاحت کردی ہے تو ازخود پاک فوج کی ترجمانی کرکے سسٹم کے حوالے سے اور حکومت کی گورننس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنیوالے عناصر کو اب خود ہی اپنی خواہشات کا ٹوکرا اٹھا کر کہیں چلے جانا چاہیے جبکہ ان پر آئین و قانون کی عملداری بھی لاگو ہونی چاہیے۔ اسی طرح اب میاں نوازشریف کو بھی اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی ترک کرکے سسٹم کے استحکام میں معاون بننا چاہیے۔ اس وقت حکومتی سیاسی اور عسکری قیادتوں کو ملک کی سلامتی کے حوالے سے کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں قومی اتحاد و یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرکے ہی سرخرو ہوا جا سکتا ہے۔