انصاف ویلفیئر سوسائٹی کویت کے زیرِ انصرام یومِ اقبال کی شاندار تقریب اقبال کا شاہین

24 نومبر 2017

انصاف ویلفیئر سوسائٹی کویت کے زیرانصرام شاعر ِمشرق، حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمّد اقبال کے 140 ویں یوم ولادت کے سلسلے میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد بعنوان ''اقبال کا شاہین'' ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قران حکیم سے انصاف کشمیر فورم کے آرگنائزر ادیب عباسی نے کیا اور نعت رسول کی سعادت انصاف سپورٹس ونگ کے آرگنائزر اقبال ساحر نے حاصل کی۔ بزم کی نظامت کے فرائض کویت میں مقیم نامور شاعر و ادیب،انصاف ویلفیئر سوسائٹی کویت کے جنرل سیکرٹری سید صداقت علی ترمذی اورآرگنائزر انصاف رائٹرز فورم محمد فیصل نے ادا کئے۔موضوع کی مناسبت سے انصاف رائٹرز فورم کے ڈپٹی آرگنائزر شوکت حیات گوندل اورانصاف رائٹرز فورم کے آرگنائزر محمّد فیصل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں اقبال کے شاہین کی ضرورت اور اصلاح معاشرہ کے لیے نوجوانوں کو اقبال کے شاہین کے اوصاف اپنانے کی ضرورت ہے۔سید صداقت علی ترمذی اور شاعر ذوالفقار نے شاعر مشرق کو منظوم شکل میں خوبصورت خراج تحسین پیش کیا۔پاکستان تحریک انصاف کی سینٹرل ایگزیکٹیوکمیٹی کے ممبر اور نارتھ ریجن کے صدر میجر ریٹائرڈ خرم حمید خان اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر رکن و انصاف خواتین ونگ اسلام آباد کی صدر محترمہ سمابیہ طاہر نے ویڈیو لنک سے میں کویت میں مقیم تحریک انصاف کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں اگر کوئی اقبال کا شاہین کہلانے کا حقدار ہے تو وہ صرف عمران خان ہے ۔جنرل سیکریٹری سید صداقت علی ترمذی نے کہا کہ اگر حقیقی معنوں میں اقبال کا شاہین بننا ہے تو محمد عربی کا غلام بننا ہو گا۔ بانگ درا کی خوبصورت نظم شکوہ کے آخری چند اشعار کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کے علامہ اقبال نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک عظیم مفکر اور محسن ملت بھی، آپ نے سیاسی اور سماجی خدمات سے عملی طور پر مسلمانوں کی خدمت بھی کی اور مسلمانوں کو منزل کی طرف رہنمائی بھی فرمائی، انہوں نے کہا کہ علامہ کی شاعری بلا شبہ قران و حدیث کی ہی منظوم شکل ہے، کسی بھی شاعر کے کلام کا آخری شعر اس کے کلام کا مغز اور حاصل کلام کہلاتا ہے اور علامہ کی نظم ''شکوہ'' کا آخری شعر ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز بتاتا ہے کہ کی محمّدسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں،آرگنائزر انصاف رائٹرزفورم محمد فیصل نے کہا کہ آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے کہ اسکے پاس مشامِ تیز بھی ہے، گفتارِ دلبرانہ بھی اور کردارِ قاہرانہ بھی،وہ لوگ جن کو آہِ سحر بھی نصیب ہو، اور سوزِ جگر بھی، وہ زندگی کے میدان میں کبھی ہارا نہیں کرتے۔آخر میں آرگنائزرانصاف پروفیشنل ونگ شیخ مقصود اختر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور علامہ محمد اقبال کی روح کو ایصال ثواب اور ملک وقوم کی ترقی کی دعاﺅں کے ساتھ پر تقریب کا اختتام ہوااور مہمانوں کے لئے ریفریشمنٹ کا اہتمام کیا گیا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...