حافظ سعید کی رہائی دنیا پر حقائق واضح کرنے کی ضرورت

24 نومبر 2017

لاہور ہائیکورٹ کے نظرثانی بورڈ نے حافظ سعید کی نظربندی ختم کرتے ہوئے توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کر دی۔ ریویو بورڈ نے حکم دیا کہ حافظ سعید کے خلاف کوئی دوسرا کیس نہ ہونے کی بنیاد پر ان کو فوری رہا کر دیا جائے۔ ان کیخلاف کوئی ثبوت موجود نہیں بلاجواز غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے بورڈ کو بتایا کہ اگر حافظ سعید کی نظربندی ختم کی گئی تو عالمی امداد بند ہونے سمیت پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم نظرثانی بورڈ نے ناکافی ثبوتوں کی بنا پر حافظ سعید کی نظربندی میں توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کر دی۔
ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے دباؤ پر حافظ سعید اور انکے ساتھیوں پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ حافظ سعید نے ان دنوں خود کو عالمی عدالت کے سامنے پیش کرنے کی پیشکش کی تھی۔ پاکستان میں ان پر کیس چلا، بھارت کو ممبئی حملوں میں انکے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کرنے کو کہا گیا مگر بھارت ایسا نہ کر سکا جس پر حافظ سعید کی نظربندی ختم کر دی گئی تھی۔ چند ماہ قبل بھارت کے ایما پر کچھ ممالک نے حافظ سعید کیخلاف کارروائی کیلئے دباؤ ڈالا تو حکومت نے دنیا کے سامنے حقائق رکھنے کے بجائے ان کو نظربند کر دیا۔ عدالت کی طرف سے حکومت سے باربار نظربندی کا جواز طلب کیا گیا مگر کوئی ٹھوس جواز اور ثبوت پیش نہ کیا جا سکا جس کے باعث ان کی رہائی کا فیصلہ سامنے آیا۔ پاکستان میں عدلیہ آزاد اور بغیر کسی مصلحت اور دباؤ کے فیصلے کر رہی ہے۔ حافظ سعید کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کئے جاتے تو یقیناً انکے مطابق فیصلہ ہوتا۔ حافظ سعید کی رہائی کی سب سے زیادہ تکلیف بھارت کو ہو رہی ہے۔ وہ ایک بار پھر عالمی برادری کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کیلئے آمادہ کرنے کی پوری کوشش کریگا۔ امریکہ نے گزشتہ دنوں پاکستان سے لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان کی بہتر سفارتکاری کے باعث امریکہ نے لشکر طیبہ کا نام واپس لے لیا تھا۔ لشکر طیبہ کی طرح حافظ سعید کی جدوجہد بھی کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے ہے۔ پاکستان کشمیریوں کے کاز اور جدوجہد سے متفق اور انکی اخلاقی و سفارتی امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ قوتیں جو بھارت کے ایما پر حافظ سعید کے حوالے سے پابندیوں کی بات کر رہی تھیں۔ انکے سامنے حقائق رکھے جائیں تو بھارت کا مؤقف مسترد ہونا ممکن ہے۔